’مسلمانوں کو اترپردیش سے نکال دیں گے‘، یوپی وزیراعلیٰ کے متنازع بیان نے آگ بھڑکا دی

یوگی آدتیہ ناتھ کے ان بیانات پر مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے


ویب ڈیسک April 06, 2026

بھارتی ریاست اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ نے ایک خطاب کے دوران مسلمانوں سے متعلق متنازع بیانات دے دیے جس کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یوگی آدتیہ ناتھ نے ریاست آسام میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی آسام کو مبینہ طور پر ’مسلم دراندازوں‘ سے پاک کر سکتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہر مسلمان کی نشاندہی کرکے اسے ریاست سے نکالا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اتر پردیش میں اب کسی کو سڑکوں پر نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ عبادت گاہوں سے بلند آواز میں عبادات یا اعلانات پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

یوگی آدتیہ ناتھ کے ان بیانات پر مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے، جبکہ انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات مذہبی ہم آہنگی کو متاثر کر سکتے ہیں اور معاشرتی تقسیم کو بڑھا سکتے ہیں۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت میں مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق مباحث پہلے ہی شدت اختیار کر چکے ہیں۔