وفاقی آئینی عدالت میں وزیر آباد میں جائیداد کی تقسیم سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس میں ایک بہن نے پرانی تقسیم کو چیلنج کیا تھا۔
وکیل درخواست گزار بہن نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ان کی موکلہ کو وراثت میں حصہ ملنا چاہیے، تاہم فریق بہن سردار بیگم نے اپنا تعلق بہن کے طور پر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔
چیف جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ کیا سردار بیگم عبداللہ کی بیٹی ہیں، جس پر وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ نہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر وہ بیٹی نہیں ہیں تو اس بات کا تحریری بیان حلفی عدالت میں جمع کرایا جائے۔
والد کی وفات کے بعد 1989 میں جائیداد تین بہنوں اور دو بھائیوں کے درمیان تقسیم ہوئی تھی۔ 2018 میں فریق بہن نورین نے اس تقسیم کو عدالت میں چیلنج کیا، جس پر کمشنر ریونیو نے زمین کی تقسیم کا فیصلہ نورین کے حق میں دیا تھا۔
بعد ازاں چوتھی بہن سردار بیگم نے لاہور ہائی کورٹ میں فریق بننے کی درخواست دی، جس پر عدالت نے انہیں جائیداد میں حصہ دینے کا واضح حکم دیا، عدالت نے کیس کی مزید سماعت پرسوں تک ملتوی کر دی ہے۔