اکثر افراد اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی ایسے خواب دیکھتے ہیں جو خوف اور بے چینی کا باعث بنتے ہیں۔ ڈراؤنے خواب نہ صرف نیند کو متاثر کرتے ہیں بلکہ بعض اوقات انسان کو ذہنی دباؤ میں بھی مبتلا کر دیتے ہیں۔
حالیہ سائنسی تحقیق نے اس حوالے سے اہم انکشافات کیے ہیں کہ یہ خواب آخر کیوں آتے ہیں اور ان سے بچنے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے۔
فن لینڈ کی ایک یونیورسٹی کی تحقیق میں 71 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا، جس سے معلوم ہوا کہ بار بار ڈراؤنے خواب دیکھنے والے افراد میں ذہنی مسائل کی ابتدائی علامات پائی جا سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر کسی شخص کو مسلسل ایسے خواب آ رہے ہوں تو یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ذہنی صحت سے جڑا ایک سنجیدہ اشارہ بھی ہو سکتا ہے، جسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
تحقیق کے مطابق خوابوں کا تعلق انسان کی روزمرہ سوچ اور ذہنی کیفیت سے گہرا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ منفی خیالات، ذہنی دباؤ اور بے ترتیبی نیند ایسے خوابوں کو جنم دے سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بہتر اور پرسکون نیند اس مسئلے سے بچاؤ میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے، اس لیے نیند کے دورانیے اور معمولات کو درست رکھنا بے حد ضروری ہے۔
مزید یہ کہ سونے سے پہلے کچھ عادات بھی ڈراؤنے خوابوں کو بڑھا سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر شراب نوشی، بھاری کھانا کھانا یا خوفناک فلمیں اور کہانیاں دیکھنا دماغ کو متحرک کر کے ایسے خیالات کو بڑھا دیتی ہیں جو نیند میں ڈراؤنی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اس لیے سونے سے قبل ان سرگرمیوں سے گریز کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مثبت سوچ اپنانا، سونے سے پہلے خود کو پُرسکون رکھنا اور صحت مند طرزِ زندگی اختیار کرنا ڈراؤنے خوابوں سے بچنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر یہ مسئلہ شدت اختیار کرے تو ماہرِ نفسیات سے رجوع کرنا بھی ضروری ہو جاتا ہے تاکہ بروقت رہنمائی حاصل کی جا سکے۔