دباؤ میں نہیں آئیں گے جواب سخت ہو گا، ٹرمپ کی پریس کانفرنس پر ایران کا دو ٹوک ردعمل

مشرق وسطیٰ میں امریکا کو مسلسل ناکامیوں اور سبکی کا سامنا ہے، ایرانی فوجی کمان


ویب ڈیسک April 07, 2026

تہران:

ایران کی اعلیٰ فوجی قیادت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کو بے بنیاد اور حقیقت سے دور قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تہران کسی بھی دباؤ کے آگے جھکنے والا نہیں۔

ایرانی مشترکہ فوجی کمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں امریکا کو مسلسل ناکامیوں اور سبکی کا سامنا ہے اور اس قسم کی سخت زبان دراصل انہی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ دھمکیوں کے ذریعے نہ تو امریکا اپنی ساکھ بحال کر سکتا ہے اور نہ ہی خطے میں اپنی پوزیشن مضبوط بنا سکتا ہے۔

فوجی حکام نے مزید کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے بڑھتی ہوئی جارحانہ بیان بازی دراصل اس کی کمزوری کا اعتراف ہے۔

ایران نے دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قسم کے دباؤ یا دھمکی سے اس کی پالیسی تبدیل نہیں ہوگی۔

بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر امریکا نے کسی بھی نوعیت کی فوجی کارروائی یا جارحیت کی کوشش کی تو اس کا بھرپور اور سخت جواب دیا جائے گا جس کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

ایرانی قیادت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ممکنہ کشیدگی کی تمام تر ذمہ داری امریکا پر عائد ہوگی۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے اور معاہدے پر آمادہ ہونے کے لیے سخت ڈیڈ لائن دے رکھی ہے۔

امریکی صدر نے خبردار کیا ہے کہ اگر مقررہ وقت تک کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو ایران کے توانائی کے مراکز اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔