پاکستان میں شمسی توانائی کے تیزی سے فروغ نے توانائی بحران پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور حالیہ عالمی کشیدگی کے باوجود ملک توانائی کے شعبے میں نسبتاً مستحکم نظر آ رہا ہے۔
سی این این کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر تیل و گیس کی قیمتوں میں اضافے سے معیشتیں متاثر ہو رہی ہیں، تاہم پاکستان جنوبی ایشیا کا واحد ملک بن کر ابھرا ہے جو اس بحران کے اثرات سے بڑی حد تک محفوظ ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو سے تین برسوں میں پاکستان میں بڑے پیمانے پر سولر پینلز کی تنصیب ہوئی اور اندازاً 25 فیصد بجلی شمسی توانائی سے پیدا ہو رہی ہے، جس کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی سپلائی میں رکاوٹوں کے اثرات بھی محدود رہے۔
شمسی توانائی میں اضافے کو خاموش انقلاب قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس پیش رفت سے پاکستان نے 2020 کے بعد توانائی درآمدات میں 12 ارب ڈالر سے زائد کی بچت کی، جبکہ رواں سال کے اختتام تک مزید 6.3 ارب ڈالر کی بچت متوقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق قابل تجدید توانائی کا فروغ پاکستان کو توانائی کے شعبے میں خود کفالت، استحکام اور معاشی بہتری کی مضبوط بنیاد فراہم کر رہا ہے۔