دبئی میں جائیدادوں کی قیمتوں میں اضافہ سالہا سال ہوتا ہے تاہم ایران جنگ کے تناظر میں اس میں کمی آرہی ہے۔
شہر پر ایرانی حملوں سے رہائشی اور تجارتی املاک کی قیمتوں میں شدید کمی آئی ہے اور ان لوگوں کی زندگی بھی متاثر ہوئی ہے جن کے معاش کا انحصار ان پر ہے۔
دبئی لینڈ ڈپارٹمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق پچھلے سال شہر میں 917 ارب درہم مالیت کی 270,000 سے زیادہ جائیدادوں کا کاروبار ہوا تاہم جب ایران نے خلیجی ممالک کے خلاف جوابی کارروائی کا آغاز کیا تو کاروبار کی یہ رفتار کم ہونا شروع ہوگئی ہے۔
کاروباری نیوز سائٹ اے جی بی آئی کے مطابق پچھلے مہینے کے مقابلے مارچ میں جائیدادوں کے فروخت کے حجم میں تقریباً 30 فیصد کمی واقع ہوئی۔ اس کی وجہ اُن معاہدوں کی منسوخی اور تعطل ہے جو جنگ سے پہلے کیے گئے تھے۔
دوسری جانب جائیدادوں کی خرید و فروخت کے نئے معاہدوں میں خریدار 30 فیصد تک کٹوتی کا مطالبہ کررہے ہیں۔
نیوز سائٹ کے مطابق دبئی میں تجارتی ریئل اسٹیٹ بھی اپنی بقا کیلئے جدوجہد کر رہا ہے۔ ہوٹلوں میں قیام معمول کے 90 فیصد سے کم ہو کر 23 فیصد رہ گیا ہے۔ انہی حالات کو دیکھتے ہوئے دبئی میں ہوٹلوں کی انتظامیہ نے گاہگوں کیلئے کافی رعایات دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کی ایک مثال پام جمیرہ ہے جہاں کچھ لگژری پراپرٹیز نے قیمتوں میں نصف تک کمی کر دی ہے۔