سندھ حکومت نے بڑھتی ہوئی پٹرولیم قیمتوں کے پیش نظر موٹر سائیکل سواروں کے لیے ماہانہ 2000 روپے پٹرول سبسڈی دینے کا اعلان کیا ہے، تاہم اس کے حصول کے لیے وضع کردہ طریقہ کار نے شہریوں کو تذبذب میں ڈال دیا ہے۔
سبسڈی کی رقم اور کڑی شرائط
رپورٹر عامر خان کے مطابق، حکومت نے ماہانہ 2000 روپے دینے کا وعدہ تو کیا ہے لیکن اس کے ساتھ ایک بڑی شرط یہ رکھی گئی ہے کہ موٹر سائیکل لازمی طور پر صارف کے اپنے نام پر رجسٹرڈ ہونی چاہیے۔ اگر موٹر سائیکل کسی اور کے نام پر ہے، تو وہ شخص اس امداد کا حقدار نہیں ٹھہرے گا۔
رجسٹریشن کا پیچیدہ عمل
سبسڈی حاصل کرنے کے لیے شہریوں کو درج ذیل مراحل سے گزرنا ہوگا:
ایکسائز آفس کے چکر: جن کی موٹر سائیکل ان کے نام نہیں، انہیں پہلے ایکسائز دفتر جا کر اسے اپنے نام منتقل کروانا ہوگا۔ (حکومت نے اس کی فیس فی الحال 500 روپے مقرر کی ہے)۔
خصوصی پورٹل اور ایپ: ملکیت کی منتقلی کے بعد ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے پورٹل یا موبائل ایپ پر اپنا شناختی کارڈ اور موٹر سائیکل کا ڈیٹا رجسٹر کرنا ہوگا۔
بینک اکاؤنٹ کی شرط: صارف کا اپنا بینک اکاؤنٹ ہونا لازمی ہے۔ اگر اکاؤنٹ ’سندھ بینک‘ میں ہے تو رقم 24 گھنٹوں میں منتقل ہوگی، جبکہ دیگر بینکوں کی صورت میں تین دن لگیں گے۔
عوامی ردعمل اور صحافتی تجزیہ
ولاگ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ کراچی سمیت پورے سندھ میں تقریباً 66 لاکھ موٹر سائیکلیں چل رہی ہیں، جن میں سے ایک بڑی تعداد اب تک اصل مالکان کے نام منتقل نہیں ہوئی۔
وقت کا ضیاع: ایک عام آدمی کے لیے 2000 روپے کی خاطر چار دن دفاتر کے چکر کاٹنا اور ایپ کی پیچیدگیوں کو سمجھنا ’اوور ٹائم‘ لگا کر پیسے کمانے سے زیادہ مشکل کام ہے۔
تکنیکی مسائل: جب لاکھوں لوگ ایک ساتھ پورٹل پر جائیں گے تو سسٹم پر بوجھ (Traffic Rush) کی وجہ سے پورٹل کے کریش ہونے یا ایرر آنے کا قوی امکان ہے۔
آسان حل کی تجویز
عامر خان نے حکومت کو مشورہ دیا کہ اس طویل اور پیچیدہ عمل کے بجائے:
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) یا نادرا کے ڈیٹا سے مدد لی جائے۔
موبائل فنانشل ایپس (جیسے ایزی پیسہ یا جاز کیش) کے ذریعے رقم براہ راست منتقل کی جائے۔
سب سے بہترین حل یہ ہے کہ تمام سبسڈیز کو یکجا کر کے پٹرول کی قیمت میں براہ راست کمی کر دی جائے تاکہ عام آدمی کو لائنوں میں لگے بغیر فوری ریلیف مل سکے۔
ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ
پٹرول کی قیمتوں میں حالیہ دو بڑے اضافوں کے بعد، 6 سیٹر اور 9 سیٹر گاڑیوں نے کرایوں میں 20 سے 30 روپے تک اضافہ کر دیا ہے۔ سبزیوں اور فرنیچر کی ترسیل کے کرایوں میں بھی 500 سے 1000 روپے تک کا اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس سے عام آدمی کی زندگی مزید مشکل ہو گئی ہے۔