دنیا بڑے سانحے کے بالکل قریب تھی، صدر مملکت کا امریکا ایران جنگ بندی کا خیر مقدم

پاکستان نے انسایت کے وسیع ترمفاد میں کام کیا، پاکستان امن، استحکام اور باہمی احترام کے فروغ کےلیے اقداات جا ری رکھے گا


ویب ڈیسک April 08, 2026

صدر مملکت آصف علی زرداری نے امریکا ایران جنگ بندی کا خیر مقدم، شرپسند عناصر سے ہوشیار رہنے  اور پائیدار امن کی راہ اپنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا ایک بڑے سانحے کے بالکل قریب پہنچ چکی تھی۔

پاکستان کے خطے اور پوری انسایت کے وسیع ترمفاد میں کام کیا ۔ پاکستان امن، استحکام اور باہمی احترام کو فروغ کیلئے اقداات جا ری رکھے گا۔

صدر مملکت کا کشیدگی میں کمی اور سفارت کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے اور تعمیری کردار ادا کرنے پر بنانے پر چین ، روس ، سعودی عرب ، ترکیہ اور مصرکا شکریہ ادا کیا قیام امن کیلئے سفارتی رابطوں پر اور کاوشوں پر وزیرِاعظم شہباز شریف، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیراور نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو سراہا۔۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے ایران اور امریکہکے درمیان طے پانے والی جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک بروقت اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام تحمل اور خطے میں زیادہ مستحکم ماحول کے لیے گنجائش پیدا کرتا ہے۔

صدر نے کہا کہ پاکستان نے مسلسل نیک نیتی کے ساتھ کشیدگی میں کمی کے لیے کام کیا۔انہوں نے کہاہم نے یہ خطے اور پوری انسانیت کے وسیع تر مفاد میں کیا، اْس وقت جب دنیا ایک بڑے سانحے کے بالکل قریب پہنچ چکی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ امن، سلامتی، معاشی استحکام اور باہم جڑے خطوں کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو فخر ہے کہ اس نے دانشمندی، عزم اور امن کے لیے غیر متزلزل وابستگی کے ساتھ قیادت کی۔

انہوں نے ایران اور امریکہ کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تباہی کے دہانے سے پیچھے ہٹ کر مکالمے کا راستہ اختیار کیا۔انہوں نے واشنگٹن، تہران اور اسلام آباد کی قیادت کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک، خصوصاً سعودی عرب کی کوششوں کو بھی سراہا، جنہوں نے کشیدگی میں کمی اور سفارت کاری کے لیے ماحول سازگاربنایا۔

صدر نے وزیرِاعظم شہباز شریف، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیراور نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی مسلسل کاوشوں، قیادت اور سفارتی رابطوں کو بھی سراہا، جنہوں نے کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔

صدر نے تمام متعلقہ فریقین کو اس بات پر سراہا کہ انہوں نے حقیقت پسندی، لچک اور مدبرانہ قیادت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس مفاہمت تک رسائی حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے نتائج کے لیے سیاسی عزم اور تصادم کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دینا ضروری ہوتا ہے۔

انہوں نے برادر ممالک چین ، روس ، سعودی عرب ، ترکیہ اور مصرکا بھی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے مشکل وقت میں تحمل اور مذاکرات کی حوصلہ افزائی میں تعمیری کردار ادا کیا۔صدر نے مزید کہا کہ دنیا بھر کے عوام کی دعائیں اور نیک تمنائیں امن کی مشترکہ انسانی خواہش کی عکاسی کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ اجتماعی آواز اہم ہے اور اسے رہنماوٴں کو ذمہ دارانہ فیصلوں کی طرف رہنمائی کرتے رہنا چاہیے صدر نے زور دیا کہ یہ جنگ بندی خطے کے لیے ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ سانس لے، بحالی کی جانب بڑھے اور ایک بڑی جنگ کے سائے سے باہر نکل آئے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جنگ بندی کو مستقل بنانے کے لیے مسلسل مذاکرات، اعتماد سازی اور پرامن حل کے لیے واضح عزم ضروری ہے، اور پاکستان ایسے تمام اقدامات کی حمایت جاری رکھے گا جو امن، استحکام اور باہمی احترام کو فروغ دیں۔