تجارتی خسارہ بڑھا، غریب عوام کی سانس گھٹی

کچھ اعداد و شمار ایسے بوسیدہ نظر آرہے ہیں جو آنکھوں کو دیکھ کر پڑھ کر بالکل اچھے محسوس نہیں ہورہے۔



کراچی کی بندرگاہ پر جب صبح سویرے دھند ابھی پوری طرح چھٹی نہیں ہوتی تب دیوہیکل جہاز اپنے سینے میں دنیا بھر کا سامان بھرے خاموشی سے لنگر انداز ہوجاتے ہیں۔ کنٹینرز ایک ایک کر کے اترتے ہیں جیسے کسی معیشت کے زخموں پر بوجھ رکھ رہے ہوں مگر ہر صنعتی شہر کے صنعتی علاقوں میں جہاں کبھی مشینوں کی آواز زندگی کی علامت ہوتی تھی، فیکٹری گیٹ پر آویزاں بورڈ جس پر لکھا ہوتا تھا ’’ضرورت ہے ملازمین کی‘‘ جسے خوشحالی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ رہی بات صنعتی ترقی کی ، ساٹھ کی دہائی میں جس کی پیداوار 15سے 20 فی صد تک چلی جاتی تھی یہ اڑان دیکھ کر دنیا حیران رہتی تھی لیکن اب بہت سی فیکٹریوں کو تالے لگ گئے۔ ہر طرف عجیب سی خاموشی چھاگئی ہے۔

کچھ اعداد و شمار ایسے بوسیدہ نظر آرہے ہیں جو آنکھوں کو دیکھ کر پڑھ کر بالکل اچھے محسوس نہیں ہورہے۔ ملاحظہ فرمائیں۔ جولائی تا مارچ 2026 ، ان 9 ماہ کے دوران پاکستان کا تجارتی خسارہ 27ارب81کروڑ ڈالر اور گزشتہ مالی سال میں یہ خسارہ 22ارب 67کروڑ ڈالر تقریباً 23 فی صد کا اضافہ ہوچکا ہے کیوں کہ گزشتہ سال کے 9 ماہ کے مقابلے میں برآمدات بہت ہی کم رہی تھی، یعنی 22ارب 73کروڑ ڈالر جب کہ گزشتہ مالی سال کی برآمدات 24ارب 72کروڑ ڈالر یعنی 8 فی صد کی کمی واقع ہوئی۔

اس کی وجہ یہ رہی کہ ملک میں پیداوار اور توانائی کی لاگت زیادہ ہے۔ اب کیا کیا جائے جنہیں اصلاح کے لیے بلایا تھا جب وہی ایسے مشورے دینے لگ جائیں، اب یہ مشورے، صلاح، تجویز نہیں رہی بلکہ شرط اور ایسی شرط کہ توانائی کی قیمتیں بڑھائی جائیں۔ دوسری طرف تو درآمدات میں اضافہ ہورہا ہے۔

اس میں ہماری اپنی خواہش اور خود نمائی بھی کار فرما ہے کیونکہ اشیائے خوراک کی درآمد بھی بڑھ رہی ہے، اس میں زرعی غفلت بھی کارفرما ہے۔ ابھی ایک آدھ برس پہلے کی بات ہے ساڑھے چھتیس لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرتے ہوئے ایک ارب 3 کروڑ ڈالر خرچ کرچکے تھے اور آئی ایم ایف کی راہ میں آنکھیں بچھائے کھڑے تھے بس سوا ارب ڈالر کا سوال تھا اور اس کے نتیجے میں اتنی سخت شرطوں کا بنڈل ملتا رہا کہ توانائی کی قیمتیں بڑھتی رہیں۔ مہنگائی عوام کی کمر توڑتی رہی۔ ان 9 ماہ میں درآمدات کا حجم رہا 50 ارب 54کروڑ ڈالر جب کہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں درآمدات 47ارب 39کروڑ ڈالر کے ساتھ 6.64 فی صد اضافہ نوٹ کیاگیا۔

پورے مارچ میں 14.4فی صد کمی کے ساتھ برآمدات کم رہی، 2ارب 26کروڑ ڈالر اور درآمدات تقریباً 5ارب ڈالر کی رہیں یوں پونے تین ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ نوٹ کیاگیا صرف مارچ میں۔

جولائی تا مارچ 26ء کا تجارتی خسارہ تقریباً 28ارب ڈالر ایک ایسا ہندسہ ہے جو صرف کاغذ پر نہیں بلکہ ہر گلی، ہر بازار، ہر مزدور اور ہر غریب کی پھٹی ہوئی جیب میں محسوس ہورہا ہے۔ یہ خسارہ صرف معیشت پر بھاری نہیں۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جس میں کمائی کم یعنی پیسا کم اور خرچ زیادہ یعنی خریدار زیادہ اور ایسے تجارتی خسارے میں غریب عوام کی سانس گھٹتی رہی۔ پاکستان کی برآمدات کبھی امید کی کرن ہوا کرتی تھیں۔

ایک وقت تھا جب پاکستان گندم کے برآمدی ملکوں میں بھی شامل تھا۔ کبھی چینی بھی برآمد کرلیتا تھا۔ ٹیکسٹائل صنعت کا تو بادشاہ مانا جاتا تھا۔ آج یہ صنعت بساکھیوں پر آگئی ہے۔ فیکٹری مالکان، بجلی بلوں، گیس کے بڑھتے بلوں اور لوڈشیڈنگ کے ساتھ پانی کی قلت یا واٹرٹینکروں کے خرچوں میں ہی پس کر رہ گئے ہیں اور عالمی منڈی میں مقابلہ سخت سے سخت تر ہوتا جارہا ہے۔ ایک وقت تھا جب ’’میڈ ان پاکستان‘‘ کا لیبل فخر کی علامت تھا۔ آج وہی لیبل عالمی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنانے کے لیے جدوجہد کررہا ہے۔ آرڈرز کم ہورہے ہیں اور مزدور بیروزگار ہورہے ہیں۔

 اسٹیٹ بینک کی جانب سے وفاقی حکومت کے مجموعی قرضوں کی رپورٹ جاری کی گئی ہے جس کے مطابق حکومت کے مقامی قرض میں دسمبر 2025 تک ماہانہ 1.40 فیصد اور سالانہ 11 فیصد اضافہ ہوا،دسمبر 2025 تک حکومت کے مقامی قرض 55 ہزار 363 ارب روپے پر پہنچ گئے ،دسمبر 24ء میں حکومت کے مقامی قرض 49 ہزار 883 ارب روپے تھے۔اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق ایک سال میں حکومت کے مقامی قرض میں 5480 ارب روپے اورایک ماہ میں 752 ارب روپے کا اضافہ ہوا،دسمبر 25 تک حکومت کے بیرونی قرض میں ماہانہ 1 فیصد اور سالانہ 6 فیصد اضافہ ہوا جب کہ دسمبر 25 ء تک حکومت کے بیرونی قرض 23 ہزار 166 ارب روپے پر پہنچ گئے۔

دوسری طرف درآمدات کا سیلاب چلا آرہا ہے۔ کھانے پینے کی اشیاء اور بچوں کے لیے دودھ سے بنی غذا تک، لمبی لمبی، بڑی بڑی بڑی قیمتی لگژڑی گاڑیوں کے ساتھ یہ سیلاب بڑھ رہا ہے جو ہمیں باور کرا رہا ہے کہ خود انحصاری کی منزل کو ہم کھوتے چلے جا رہے ہیں۔ حکومت کی رپورٹوں میں آئی ایم ایف کے جائزوں میں عام آدمی، ملک کے غریب عوام جس کی اکثریت ہے ان کا ذکر ہوتا ہی نہیں۔ کہیں نہ کہیں، کبھی نہ کبھی ان کا ذکر ہونا چاہیے ان کے بغیر تو کہانی نامکمل ہے اور میں ہر جگہ ان کا ذکر کرتا رہتا ہوں کیونکہ اصل کہانی انھی کی ہے۔

وہ مزدور جو صبح روزگار کی تلاش میں جاتا ہے مگر شام کو خالی ہاتھ لوٹتا ہے، اس کے چھوٹے چھوٹے بچے اس سے آکر لپٹ جاتے ہیں۔ وہ بیوہ جو بازار میں قیمتیں سن کر خاموشی سے چیزیں واپس رکھ دیتی ہے۔ وہ نوجوان جو ڈگری ہاتھ میں لیے در در کی ٹھو کریں کھاتا ہے۔ یہ سب لوگ ان بڑھتی ہوئی درآمدات اور کم ہوتی ہوئی برآمدات کے باعث تجارتی خسارے کا حصہ ہیں بطور ہندسہ نہیں، بطور تجارتی اعداد و شمار کے نہیں، بطور انسان، بطور پاکستان کی اکثریتی عوام کے۔ ان کے خواب، ان کی زندگیاں، ان کی امیدیں سب اسی تجارتی خسارے کی قیمت ادا کررہے ہیں۔