بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ اور خلیجی ممالک

اس وقت متحدہ عرب امارات سخت کشمکش کی صورت حال سے گزر رہا ہے


عثمان دموہی May 24, 2026

گزشتہ ہفتے نریندر مودی نے متحدہ عرب امارات کا مختصر دورہ کیا مگر یہ دورہ بہت اہم رہا کیونکہ اس دورے میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی دوستی کا پھر سے دم بھرا اور ایک ساتھ چلنے کا عزم ظاہر کیا۔ اس دورے میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ساتھ معاشی تعاون کے علاوہ توانائی، ٹیکنالوجی اور فوجی تعاون کے اہم معاہدوں پر اتفاق کیا۔

اس وقت متحدہ عرب امارات سخت کشمکش کی صورت حال سے گزر رہا ہے کیونکہ اسے شکایت ہے کہ ایران کی جانب سے اس پر حملے کیے جا رہے ہیں اور اس کے پڑوسی عرب ممالک اس کی اس تجویز پر عمل نہیں کر رہے ہیں کہ ان تمام کو مل کر ایران پر حملہ کر دینا چاہیے۔

مودی کے یو اے ای کے دورے کو اس لیے بھی کامیاب قرار دیا جا رہا ہے کہ وہ اس سے جو کچھ چاہتے تھے وہ انھیں مل گیا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے اس وقت بھارت میں پانچ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا بھی اعلان کیا ہے، یہ خبر ہم پاکستانیوں کو یقینا یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ایران امریکا جنگ کے دوران جب پوری دنیا میں ہلچل مچی ہوئی تھی کیونکہ اس وقت سے آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل بند ہے چنانچہ تمام ہی ممالک کی معیشتوں پر برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

ان میں پاکستان بھی شامل ہے پھر پاکستان کی معیشت تو پہلے سے ہی خراب ہے اور قرضے لے کر کام چلائے جا رہے ہیں۔ اس نے متحدہ عرب امارات سے بھی تین ارب ڈالر قرضہ لیا ہوا تھا، ایسے جنگ زدہ ماحول میں متحدہ عرب امارات نے اپنا قرض واپس کرنے کو کہا۔ پاکستان بھی ایک خوددار ملک ہے، اس نے فوراً ہی اس کا قرض واپس کر دیا ۔

متحدہ عرب امارات پر ایران امریکا جنگ کے دوران کئی ڈرون حملے کیے گئے ہیں ۔ بعض حلقوں کا دعویٰ ہے کہ یہ اسرائیل کی جانب سے کیے جا رہے تھے تاکہ وہ ایران سے جنگ میں الجھ جائے مگر یو اے ای انھیں ایران کے حملے قرار دیتا ہے۔

بہرحال اب یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اسرائیل ہی نہیں امریکا بھی یہ چاہتا ہے کہ تمام خلیجی ممالک ان کے ساتھ ایران جنگ میں شامل ہو جائیں۔ دراصل امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کوشش ہے کہ ایران سے جنگ میں ان کے جو وسائل اور افرادی قوت ضایع ہو رہی ہے وہ اس کو بچا سکیں مگر معاملہ یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات سمیت تمام ہی عرب ممالک ایران سے الجھنے سے احتراز کر رہے ہیں۔

اسرائیل عربوں میں پھوٹ ڈالنے میں کی کوشش کررہا ہے۔ حال ہی میں متحدہ عرب امارات کے جوہری پلانٹ پر بھی حملہ ہوا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے اس کا الزام بھی ایران پر لگایا ہے جب کہ یہ حملہ اسرائیل کی جانب سے بھی ہو سکتا ہے کیونکہ امارات کے ایٹمی پلانٹ کو وہ کسی طرح بھی برداشت نہیں کر سکتا۔

وہ تو ایران کو بھی جوہری طاقت بننے نہیں دے رہا ہے جب کہ وہ خود ایٹمی طاقت بن چکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل کیا امریکا بھی مشرق وسطیٰ کے کسی بھی ملک کو ایٹمی صلاحیت کا حامل ملک بنتے نہیں دیکھنا چاہتے۔

یہ بات کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ اسرائیل اور بھارت دونوں ہی مسلمانوں کے کٹر دشمن ہیں۔ اسرائیل نے فلسطینیوں کے قتل عام کو اپنا مشغلہ بنا لیا ہے تو اسی طرح بھارت نے بھی بھارتی مسلمانوں کے خلاف سخت نفرت کی مہم چلا رکھی ہے اور وہ کشمیریوں کا مسلسل قتل عام کر رہا ہے اور اپنے ظلم و جبر کے ذریعے کشمیر پر اپنا قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔

پاکستان نے حال ہی میں سعودی عرب سے فوجی معاہدہ کیا ہے جس کا مقصد سراسر صیہونی جارحیت کا مقابلہ کرنا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں اس وقت اگر کسی عرب ملک کو کوئی خطرہ ہے تو وہ صرف اسرائیل سے ہے کیونکہ وہ اپنے گریٹر اسرائیل کے مذموم منصوبے کو حقیقت کا رنگ دینے کے لیے عربوں کی سرزمین پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اور وہ اپنے اس منصوبے کو پورا کرنے کے لیے لبنان کے جنوبی علاقوں پر قبضہ کرکے اس کا آغاز بھی کر چکا ہے۔

یہ صورت حال انتہائی پریشان کن ہے کیونکہ امریکا اور اسرائیل کی ہر جارحانہ کارروائی میں اس کا ساتھ دے رہا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیتن یاہو کے ہر دہشت گردانہ اقدام میں اس کی بھرپور مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔

افسوس کی بات تو یہ ہے کہ صدر ٹرمپ شروع میں جو پوری دنیا میں امن قائم کرنے کا دعویٰ کر رہے تھے، ساتھ ہی فلسطین کا مسئلہ بھی ہمیشہ کے لیے حل کرنے کا نعرہ بلند کر رہے تھے، وہ سب ڈھونگ کے سوا کچھ نہیں تھا۔