کئی ہفتوں کے بعد کالم لکھنے کے لیے دل اس لیے چاہا کہ کچھ ایسی باتیں اپنے پڑھنے والوں سے شیئر کروں جنہیں جب سنا جاتا ہے تو افسانہ لگتا ہے لیکن جب کبھی یہ حقیقت کا روپ دھار لیتی ہیں تو حیرانی ہوتی ہے۔
ایسا ہی میرے ساتھ بھی کچھ ہوا ہے‘ یہ غالباً وسط دسمبر کی کوئی تاریخ ہے، میری ملاقات زمرد نقوی سے ہوئی، آپ ان کے کالم اور تحریریں اور پیشگوئیاں پڑھتے رہتے ہیں‘ میں پیش گوئیوں پر یقین نہیں رکھتا، بلکہ ایک گہرائی سے کیے گئے تجزیے کا نتیجہ خیال کرتا ہوں، معاملہ خواہ کچھ بھی ہو لیکن مستقبل کے حوالے سے کوئی بات کرنا بہرحال آسان کام نہیں ہوتا۔ زمرد نقوی نے اس ملاقات میں مجھے بتایا کہ مارچ میں بہت زیادہ تباہی ہو سکتی ہے کیونکہ بروج اور ستاروں کا ملن ایسا ہے جو مدتوں بعد ہوتا ہے۔
بات آئی گئی ہو گئی لیکن مارچ میرے ذہن میں رہا، اس مہینے سے پہلے ہی عالمی سطح پر تبدیلیاں رونما ہونے لگیں، 3جنوری 2026کو امریکا نے وینزویلا کے صدر نکولاس مادورو اور اس کی بیوی کو ایک فوجی آپریشن کے ذریعے اغوا کیا اور انھیں واشنگٹن لے آئے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے تیل پر قبضے کا اعلان کر دیا، یہ انتہائی جارحانہ اقدام تھا لیکن دنیا خاموش رہی، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے تندوتیز اور دھمکی آمیز بیانات دینا شروع کر دیے۔ اس دوران کئی چھوٹے موٹے واقعات ہوئے لیکن انھیں چھوڑ دیتے ہیں اور سب سے بڑے سانحے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ امریکا اور اسرائیل نے28فروری کو مشترکہ طور پر ایران پر حملہ کر دیا‘ اس حملے میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور ان کے کئی ساتھی شہید کر دیے گئے، پھر مارچ کا پورا مہینہ آپ کے سامنے ہے، اس دوران کیا کچھ نہیں ہوا۔
امریکا اور اسرائیل نے ایران کی سرزمین کو خاک و خون میں نہلا دیا، ایران نے انتہائی جرات اور استقامت کے ساتھ دنیا کی طاقتور ترین عسکری مشین کا مقابلہ کیا اور شکست نہیں مانی۔ایران نے اس جنگ میں اپنی حاصل عسکری قوت کے ساتھ دنیا کی سپر طاقت امریکا اور اسرائیل کا بھرپور مقابلہ کیا۔ٹرمپ کی دھمکیوں کے باوجود نہ تو شکست تسلیم کی اور نہ جنگ بندی کے لیے ہاتھ پھیلائے بلکہ ہر امریکی دھمکی کے جواب میں اپنی دستیاب عسکری صلاحیت کے مطابق کارروائی کی اور جوابی ردعمل کا بھی خوب مظاہرہ کیا۔
خوش آئند خبر یہ ہے کہ اب جنگ دو ہفتوں کے لیے بند کر دی گئی ہے۔ اس جنگ میں پاکستان نے اعلیٰ ترین سفارتکاری کا مظاہرہ کیا اور اسے بند کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا‘ گو چین اور دیگر قوتوں کا بھی پس پردہ کردار ہو گا لیکن سامنے کی بات یہی ہے کہ اس جنگ کو بند کرانے میں پاکستان نے وہ کردار ادا کیا جو کوئی بھی نہ کر سکا۔ لیکن میں جس حوالے سے بات کرنا چاہ رہا ہوں وہ یہ ہے کہ بعض اوقات ایسے سانحات یا واقعات رونما ہو جاتے ہیں جو وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتے۔ حالیہ خلیجی جنگ کو ہی دیکھوں تو کم از کم مجھے دسمبر 2025 میں ایسا نہیں لگ رہا تھا کہ امریکا اور اسرائیل ایران پر جنگ مسلط کر دیں گے۔
وجہ اس کی بڑی سادہ سی نظر آ رہی تھی کہ دونوں متحارب قوتوں کے درمیان مذاکرات کا ڈول ڈالا جا رہا تھا، بہت سے معاملات پر پیش رفت نظر آ رہی تھی، حالات یہی نظر آ رہے تھے کہ کوئی نہ کوئی معاہدہ ہو جائے گا جس سے جنگ ٹل جائے گی اور یہ خطے تباہی سے بچ جائے گا لیکن یہ سچائی سامنے آئی کہ ہونی کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ بہرحال جنگ ختم ہو گئی ہے، اس پر پوری دنیا کو سکھ کا سانس آیا ہے، اس جنگ میں پاکستان کی قیادت وزیراعظم شہبازشریف اور پاک فوج کے سربراہ فیلڈمارشل عاصم منیر نے جو کردار ادا کیا ہے اس کی ستائش امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی کر رہے ہیں۔ جرمنی نے تو کہا ہے کہ اس کردار کی ادائیگی پر پاکستان کو نوبل انعام ملنا چاہیے۔ بہرحال پاکستان کی سفارتی کوششیں کامیاب ہوئیں۔
دوہفتوں کے لیے جنگ بندی ہو گئی ہے‘ آبنائے ہرمز کھل گئی ہے‘ تیل کی عالمی قیمتیںکم ہو رہی ہیں۔امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیڈ لائن دے رکھی تھی، انھوں نے جس انداز میں ایران پر جہنم برسانے اور ایرانی تہذیب تباہ کرنے کی دھمکی دے رکھی تھی اس سے پوری دنیا کی سانسیں رکی ہوئی تھیں لیکن ڈیڈ لائن ختم ہونے سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیاکہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر وہ ایران کے خلاف طے شدہ حملے کو دو ہفتوں کے لیے موخر کرنے پر آمادہ ہیں۔جیسے ہی یہ اطلاع منظرعام پر آئی پوری دنیا نے سکون کا سانس لیا، اب سب کی نظریں مکمل جنگ بندی پر ہیں امید یہی ہے کہ جنگ بند ہو جائے گی کیونکہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کہا ہے ایران کی جانب سے10نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے جو مذاکرات کے لیے قابل عمل بنیاد فراہم کرتی ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان زیادہ تر اختلافی نکات پر اتفاق ہو چکا ہے اور دو ہفتوں کی مہلت معاہدے کو حتمی شکل دینے میں مدد دے گی۔ ایران نے بھی جنگ بندی کی تصدیق کر دی ہے۔ اس جنگ بندی کی منظوری ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے دی ہے۔ امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی قیادت اسلام آباد آئے گی اور یہاں حتمی مذاکرات ہوں گے۔
صورتحال کا بغور جائزہ لیا جائے تو بات عیاں ہو جاتی ہے کہ جنگ اسرائیل اور امریکا نے مسلط کی،ایران اس جنگ سے بچنے کے لیے مذاکرات کی میز پر آ چکا تھا،اس کی ہر ممکن کوشش تھی کہ جنگ نہ ہو اور معاملات بات چیت سے طے پا جائیں۔بہرحال اب یہ خوش آئند امر ہے کہ معاملات کو مذاکرات کے ذریعے طے کرنے کے لیے جنگ عارضی طور پر بند کی گئی ہے۔
مجھے لگتا ہے کہ مارچ کی نحوست ختم ہو رہی ہے اور آنے والے دن سب کے لیے بہتری کی نوید لے کر آئیں گے۔ اس جنگ نے بہت سی حقیقتوں کو آشکار کیا ہے۔ پیشگوئیاں کی بات اپنی جگہ رہی لیکن حقائق کی دنیا میں رہ کر بغور چین آف ایونٹ کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت ایک بار پھر آشکار ہو جاتی ہے کہ اگر فہم و فراست، دوراندیشی اور معاملہ فہمی جیسے اوصاف کو اولیت اور ترجیح دے کر تنازعات کو حل کرنے کی کوشش کی جائے تو جنگوں سے بچا جا سکتا ہے کیونکہ افراد کے درمیان لڑائی جھگڑے ہوں‘ قبائل کی باہمی لڑائیاں ہوں یا ریاستوں کے درمیان جنگیں ہوں، کہیں نہ کہیں ضد‘ ہٹ دھرمی اور غصہ غالب ہوتا ہے، نفرت‘عصبیت اور مال کی ہوس عقل کی دشمن ہوتے ہیں۔
دنیا میں آج تک جتنی بھی جنگیں ہوئیں ان میں یہی زہریلے جذبے اپنے عروج پر نظر آتے ہیں۔ ہر جنگ کا اختتام لاشوں‘ خون‘ خواتین اور بوڑھوں کی آہ و بکا اور بچوں کی چیخوں پر ہوتا ہے۔ ایران میں ہزاروں بے گناہوں کو شہید کیا گیا، اندازہ لگائیں کہ کتنی خواتین بیوہ ہوئی ہوں گی، کتنی ماؤں کے کڑیل جوان بیٹے دنیا سے رخصت ہو گئے ہوں گے۔ کتنے بچے یتیم ہوئے ہوں گے اور کتنے گھرانے کمانے والوں سے محروم ہوگئے ہوں گے‘ یہ دکھ ان کے سوا کوئی اور محسوس نہیں کر سکتا۔ سوچنے اور سمجھنے کی بات یہی ہے کہ اتنا نقصان کرانے کے بعد بھی اگر مذاکرات کر کے صلح کرنی ہے تو کیوں نہ یہی کام آگ بھڑکانے سے پہلے کر لیا جائے۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔