وفاقی محتسب کے ادارہ کی افادیت

جنرل ضیاء الحق کے دورِ اقتدار میں ایک باقاعدہ قانون کے تحت وفاقی محتسب کا ادارہ قائم کیا گیا۔



ڈاکٹر اوجِ کمال نے وفاقی اردو یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغِ عامہ میں 32سال سے زائد عرصے تک بطور اسسٹنٹ پروفیسر درس و تدریس کے فرائض انجام دیے، جب وہ ریٹائر ہوئے تو ان کے اہل خانہ کو امید تھی کہ ریٹائرمنٹ کے واجبات اور پنشن کی مد میں انھیں اتنی رقم مل جائے گی کہ وہ اپنی زندگی کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے کسی بھی منافع بخش اسکیم میں انویسٹ کرتے یا کوئی قطعہ اراضی یا کوئی جائیداد خرید لیتے مگر کسی وجہ سے انھیں ریٹائرمنٹ کے واجبات نہیں ملے۔

اسی طرح پروفیسر مسعود احمد بھی اسی یونیورسٹی کے مختلف شعبوں میں فرائض انجام دیتے رہے۔ان دونوں اساتذہ کا شمار ابلاغ عامہ کے معروف اساتذہ میں ہوتا ، پروفیسر مسعود 35سال ملازمت سے ریٹائر ہوئے توانھیں بھی ریٹائرمنٹ واجبات نہ مل سکے۔ایک اور نام جمیل احمد کا ہے‘ وہ بھی اسی یونیورسٹی کے مختلف انتظامی شعبوں میں فرائض انجام دیتے رہے جب وہ 35 سال اور 6 ماہ کی ملازمت کرنے کے بعد ریٹائر ہوئے تو انھیں بھی ویسی ہی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔ بہرحال معاملات جامع سے ہوتے ہوئے انفارمیشن کمیشن تک گئے اور پھر ڈاکٹر اوجِ کمال اور پروفیسر مسعود احمد نے وفاقی محتسب کے کراچی آفس میں ایک عرضداشت داخل کی۔ اس عرضداشت میں استدعا کی گئی کہ انھیں ریٹائرمنٹ کے واجبات کی ادائیگی کی جائے۔ وفاقی محتسب کے کراچی کے سینئر مشیر انوار حیدر نے اس مقدمہ کی عرق ریزی سے سماعت کی تاہم نوٹسز کے جوابات جمع نہیں ہوئے۔

2017سے اساتذہ اور ریٹائر ہونے والے عمال کو پنشن کے واجبات کی ادائیگی نہیں ہوئی جب کہ یونیورسٹی کے ڈپازٹ میں 67کروڑ روپے موجود تھے۔ وفاقی محتسب نے اپنے ایک جامع فیصلے میں ہدایات جاری کیں کہ ڈپازٹ میں رکھی ہوئی رقم سے ریٹائرمنٹ کے واجبات کی ادائیگی کی جائے۔ اس دوران جمیل احمد نے بھی وفاقی محتسب کے سامنے عرضداشت داخل کی۔ وفاقی محتسب نے پھر ایک فیصلہ میںکہا کہ سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کی روشنی میں ریٹائرمنٹ کے 03سال بعد پنشن فنڈ میں کٹوتی نہیں ہوسکتی مگر جامع کی انتظامیہ نے اس فیصلے پر بھی عملدرآمد سے انکار کیا۔

جنرل ضیاء الحق کے دورِ اقتدار میں ایک باقاعدہ قانون کے تحت وفاقی محتسب کا ادارہ قائم کیا گیا۔ اس ادارہ کا ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں قائم ہوا اور چاروں صوبوں میں اس کے دفاتر قائم کیے گئے۔ وفاقی محتسب کے ملک کے 24 شہروں میں دفاتر قائم ہیں۔ سرکاری ملازمین اور عام شہری وفاقی حکومت کی وزارتوں اور خودمختار اداروں کے فیصلوں کے خلاف وفاقی محتسب سے انصاف حاصل کرسکتے ہیں۔ وفاقی محتسب کے قانون کا مطالعہ کرنے والے وکلاء کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس قانون کے تحت تمام ریاستی ادارے اس کے دائرہ کار میں آتے ہیں اور وفاقی وزارتوں کے تمام سول ملازمین اور تمام وفاقی خودمختار ادارے بھی اس کے دائرہ کار میں آتے ہیں مگر وفاقی محتسب کے پاس اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کروانے کا کوئی مؤثر نظام یا طریقہ کار موجود نہیں۔

وفاقی وزارتیں، خودمختار ادارے اور وہ شہری جو وفاقی محتسب کے فیصلوں سے مطمئن نہ ہوں تو وہ 90 دن کے اندر صدر پاکستان کو اپیل دائر کرسکتے ہیں مگر مختلف وزارتیں اور خودمختار ادارے وفاقی محتسب کے فیصلوں کے خلاف مقررہ وقت پر صدر سے اپیل نہیں کرتے مگر فیصلوں پر عملدرآمد بھی نہیں کیا جاتا۔ اصولی طور پر وفاقی محتسب کی سالانہ رپورٹ پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے مگر یہ سالانہ رپورٹ قومی اسمبلی کے اسپیکر کے دفتر تک تو ضرور بھیجی جاتی ہو۔

ایک معروف وکیل کا کہنا ہے کہ وفاقی محتسب کا قانون اس کی کارکردگی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ وفاقی محتسب کو کسی افسر کو وفاقی محتسب سے تعاون نہ کرنے یا فیصلہ پر عملدرآمد نہ کرنے پر کسی قسم کی سزا دینے کا اختیار نہیں ہے۔ وفاقی محتسب کے قانون کے تحت صدر پاکستان وزیر اعظم کی سفارش پر کسی ریٹائرڈ جج کسی ریٹائرڈ بیوروکریٹ کا 4 سال کے لیے تقرر کرتے ہیں۔

محتسب اعلیٰ کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر وفاقی محتسب کے قانون میں تبدیلی کے لیے کوشش کریں۔ وفاقی حکومت کو بھی وفاقی محتسب کے ادارے کو زیادہ فعال بنانے کے لیے اس مسئلہ پر توجہ دینی چاہیے اور وفاقی انفارمیشن کمیشن کے قانون کی طرح وفاقی محتسب کا قانون ہونا چاہیے۔ انفارمیشن کمیشن کو یہ اختیار حاصل ہے کہ کمیشن کی ہدایت پر عملدرآمد نہ کرنے والے متعلقہ افسر کے خلاف کارروائی کر سکے۔ وفاقی محتسب کو توہینِ عدالت کا اختیار ہونا چاہیے۔ اس اختیار کے تحت فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے والے افسر پر جرمانہ اور ملازمت سے برطرفی تک کا اختیار حاصل ہونا چاہیے۔

جب وفاقی محتسب کو اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کرانے کا مکمل اختیار حاصل ہوگا تب ہی اس ادارے پر ہر سال خرچ ہونے والے اربوں روپے کا جواز پیدا ہوگا، یوں عام آدمی کو کم از کم وفاق کی سطح پر جلد انصاف میسر ہوگا۔