جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کے لبنان پر تباہ کن حملے، 254 شہید، 1100 سے زائد زخمی

بیروت میں مسلسل دھماکوں سے شہر گونج اٹھا جبکہ مختلف علاقوں سے دھوئیں کے بادل بلند ہوتے دیکھے گئے


ویب ڈیسک April 09, 2026

ایران کے ساتھ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے لبنان پر شدید اور بڑے پیمانے پر فضائی حملے جاری رکھے ہیں، جن کے نتیجے میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں خطرناک اضافہ ہو گیا ہے۔

لبنان کی سول ڈیفنس اور وزارتِ صحت کے مطابق ملک بھر میں اسرائیلی حملوں میں اب تک کم از کم 254 افراد جاں بحق جبکہ 1100 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کے باعث اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق دارالحکومت بیروت میں سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا، جہاں 92 افراد جاں بحق اور 742 زخمی ہوئے، جبکہ بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں 61 افراد جاں بحق اور 200 زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ بعلبک میں 18، ہرمیل میں 9، نبیطہ میں 28، سدون میں 12 اور طیر میں 17 افراد جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔

لبنانی وزارت صحت کے مطابق صرف ایک دن کے دوران ہونے والے حملوں میں 112 افراد جاں بحق اور 800 سے زائد زخمی ہوئے، جس کے بعد اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور عوام سے خون کے عطیات دینے کی اپیل کی گئی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق بیروت میں مسلسل دھماکوں سے شہر گونج اٹھا جبکہ مختلف علاقوں سے دھوئیں کے بادل بلند ہوتے دیکھے گئے، جس سے صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں جنگ کے دوران اب تک کی سب سے بڑی اور مربوط مہم کا حصہ ہیں، جن میں لبنان کے مختلف علاقوں بشمول وادی بقاع اور جنوبی لبنان میں 100 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں حزب اللہ کے کمانڈ سینٹرز اور دیگر عسکری تنصیبات شامل ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہوتی، جبکہ وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں حزب اللہ کو بھاری نقصان پہنچایا گیا ہے۔

موجودہ صورتحال کے باعث خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور انسانی بحران کے خدشات بھی شدت اختیار کر رہے ہیں۔