ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے حالیہ جنگ بندی اور مجوزہ مذاکرات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بات چیت شروع ہونے سے پہلے ہی اہم شرائط کی خلاف ورزی ہو چکی ہے، جس کے باعث موجودہ صورتحال میں مذاکرات غیر معقول دکھائی دیتے ہیں۔
ایک بیان میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران کی جانب سے پیش کی گئی 10 نکاتی تجاویز کے کم از کم تین اہم نکات کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ ان کے مطابق پہلی خلاف ورزی ایران کی فضائی حدود میں ڈرون دراندازی کی صورت میں سامنے آئی، دوسری خلاف ورزی ایران کے یورینیئم افزودگی کے حق کو تسلیم نہ کرنے سے متعلق ہے، جبکہ تیسری خلاف ورزی لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان حالات میں نہ تو دو طرفہ جنگ بندی قابلِ عمل نظر آتی ہے اور نہ ہی مذاکرات کا عمل مؤثر ہو سکتا ہے، کیونکہ بنیادی اعتماد ہی مجروح ہو چکا ہے۔
دوسری جانب لبنان میں صورتحال بدستور تشویشناک ہے، جہاں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ لبنانی سول ڈیفنس کے مطابق صرف ایک دن میں ہونے والے حملوں کے نتیجے میں 254 افراد جاں بحق جبکہ 1165 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جس سے خطے میں انسانی بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے اس سخت مؤقف کے بعد سفارتی عمل مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے اور خطے میں کشیدگی کے کم ہونے کے امکانات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔