گل پلازہ میں فائر فائٹنگ اور الارم سسٹم موجود نہ تھا، جوڈیشل کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف

وزیراعلیٰ سندھ نے سید ناصر شاہ، ضیاء الحسن لنجار اور جام اکرام اللہ دھاریجو پر مشتمل کمیٹی قائم کر دی


ویب ڈیسک April 09, 2026

کراچی:

گل پلازہ آتشزدگی کی جوڈیشل کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ میں فائر فائٹنگ اور الارم سسٹم موجود نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت گل پلازہ آتشزدگی کی جوڈیشل کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ کا جائزہ اجلاس ہوا۔

اجلاس میں صوبائی وزراء، شرجیل میمن، ناصر حسین شاہ اور ضیاء الحسن لنجار، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ اقبال میمن، آئی جی پولیس جاوید عالم اوڈھو، ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان، کمشنر کراچی حسن نقوی، سیکریٹری قانون علی احمد بلوچ اور دیگر متعلقہ حکام شریک ہوئے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جوڈیشل کمیشن کی تحقیقات اور محنت کو سراہا۔ انہوں نے عمارتوں کی حفاظت کے لیے وسیع اصلاحات اور عمارتوں کے لیے فائر سیفٹی آڈٹ لازمی قرار دینے کی ہدایت کر دی۔

وزیراعلیٰ سندھ کو گل پلازہ آتشزگی واقعے پر جوڈیشل کمیشن کی تحقیقات سے متعلق تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ گل پلازہ میں آتشزدگی لگنے کا واقعہ 17 جنوری 2026 کو پیش آیا۔

تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ گل پلازہ میں فائر فائٹنگ سسٹم اور الارم سسٹم موجود نہ تھا جبکہ عمارت کے باہر رش اور تعمیراتی کاموں نے امدادی کارروائیاں بھی متاثر کیں۔

وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دی گئی کہ عمارت میں محفوظ انخلا کے انتظامات بھی ناکافی تھے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کمرشل عمارتوں کے لیے فائر سیفٹی آڈٹ لازمی قرار دینے سمیت عمارتوں میں قائم تجاوزات کے خاتمے اور ایمرجنسی رسائی بہتر بنانے کی ہدایت کی۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، حفاظتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے اور اگر مزید قانون سازی کی ضرورت ہے اس کا ڈراف تیار کریں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے تین وزراء سید ناصر شاہ، ضیاء الحسن لنجار اور جام اکرام اللہ دھاریجو پر مشتمل کمیٹی قائم کر دی۔

ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق کمیٹی جلد از جلد رپورٹ جائزہ لے کر اپنی سفارشات وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کرے گی۔