ہم کوئی برف کا ٹکڑا نہیں ہیں، گرین لینڈ کے وزیراعظم کا ٹرمپ کو دو ٹوک جواب

نیٹو کو اپنا اتحاد برقرار رکھنے کے لیے متحد ہونے کی ضرورت ہے اور امید ہے ایسا ہی ہوگا، فریڈرک نیلسن


ویب ڈیسک April 09, 2026
گرین لینڈ—فوٹو: رائٹرز

گرین لینڈ کے وزیراعظم جینز فریڈرک نیلسن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اشتعال انگیز بیان پر نیٹو اتحاد کو بین الاقوامی قانون کے دفاع کے لیے متحد ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے ہم صرف برف کا ٹکڑا نہیں ہیں۔

خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق گرین لینڈ کے وزیراعظم جینز فریڈرک نیلسن نے ٹرمپ کا بیان مسترد کیا اور کہا کہ ہم کوئی برف کا ٹکڑا نہیں ہیں، ہم 57 ہزار آبادی کا حامل اور اچھے بین الاقوامی شہری کی طرح روزانہ کام کر رہے ہیں اور اپنے تمام اتحادیوں کا احترام کرتے ہیں۔

انہوں نے جنگ کے بعد نیٹو دفاعی اتحاد اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ بین الاقوامی قانون سمیت جغرافیائی اور سیاسی نظام کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا اور  کہا کہ اب ان چیزوں کو چیلنج کیا جا رہا ہے اور میرا خیال ہے کہ تمام اتحادیوں کو انہیں برقرار رکھنے کے لیے متحد ہو کر کھڑا ہونا چاہیے اور مجھے امید ہے ایسا ہوگا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران جنگ میں ساتھ نہ دینے پر نیٹو اتحاد پر برہمی کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ فوجی اتحاد کی جب ہمیں ضرورت تھی تو اس وقت موجود نہیں تھا اور آئندہ بھی نہیں ہوگا لیکن یاد رکھیں گرین لینڈ انتہائی غیرمنظم طور پر چلایا جانے والا برف کا ٹکڑا ہے۔

یاد رہے کہ رواں برس کے شروع میں جب ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ پر قبضے کے حوالے سے بیانات دیے تھے اور دباؤ ڈالا تھا تو نیٹو اتحاد نے مشترکہ طور پر مؤقف اپنانے کی کوشش کی تھی اور امریکی صدر کے مؤقف کو مسترد کردیا تھا۔

وائٹ ہاؤس نے جنوری میں بتایا تھا کہ گرین لینڈ میں ملٹری فورس استعمال کرنے پر غور کر رہے ہیں، جس پر جرمنی، فرانس اور یورپی ممالک نے یک جہتی اور دفاع کے حق کا پیغام دینے کے لیے محدود پیمانے پر فوج بھیج دی تھی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹ سے گفتگو کے بعد یہ کہتے ہوئے اپنے منصوبے میں نرمی لائی تھی کہ مستقبل کے معاہدے کے فریم ورک تشکیل دیا گیا اور گرین لینڈ تنازع سے سفارتی وطح پر تبدیل ہوگیا ہے۔