امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک بار پھر سخت بیان دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی بھی وجہ سے صورتحال غیر متوقع ہوئی تو ایران پر پہلے سے زیادہ بڑے اور طاقتور حملے کیے جائیں گے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک بار پھر ایران کے ساتھ جاری کشیدگی پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کسی بھی وقت جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔لبنان پر اسرائیلی حملوں کو امریکا جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ایران نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت دوبارہ بند کردی۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل لبنان پر حملے جاری رکھتا ہے تو وہ امریکا کے ساتھ طے شدہ جنگ بندی معاہدے سے دستبردار ہو سکتا ہے۔اس سے قبل وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری نے بتایا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو اسلام آباد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مشرق وسطیٰ کی سیاست کو اگر ایک ایسے آئینے سے دیکھا جائے جس میں تاریخ، طاقت، عقیدہ اور معیشت بیک وقت منعکس ہوتے ہوں تو حالیہ بحران اس آئینے پر پڑنے والی ایک شدید دراڑ کی مانند محسوس ہوتا ہے، یہ دراڑ محض دو یا تین ریاستوں کے درمیان کشیدگی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک ایسے عالمی نظام کی کمزوری کا اظہار ہے جو بظاہر مستحکم مگر اندر سے تضادات سے بھرا ہوا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی، اسرائیل کی مسلسل عسکری پیش قدمی اور لبنان میں جاری تباہی نے ایک ایسا ماحول پیدا کیا جس میں کسی بھی لمحے ایک محدود تنازعہ ایک وسیع جنگ میں تبدیل ہو سکتا تھا، ایسے میں اگر کوئی قوت توازن، تدبر اور مفاہمت کی علامت بن کر سامنے آئی تو وہ پاکستان تھا، جس نے نہ صرف اپنے علاقائی کردار کو ازسر نو متعین کیا بلکہ عالمی سفارتکاری میں ایک نئی جہت کا اضافہ بھی کیا۔ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ عالمی سیاست میں ثالثی کا کردار ادا کرنا کسی بھی ریاست کے لیے آسان نہیں ہوتا، خاص طور پر اس وقت جب فریقین کے درمیان بداعتمادی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہو۔ یہاں صرف بیانات یا رسمی ملاقاتیں کافی نہیں ہوتیں بلکہ ایک ایسی حکمت عملی درکار ہوتی ہے جو بیک وقت کئی سطحوں پر کام کرے۔
پاکستان نے اس بحران میں یہی حکمت عملی اختیار کی، جہاں ایک طرف رسمی سفارتی چینلز کو متحرک رکھا گیا، وہیں دوسری طرف بیک چینل روابط کے ذریعے اعتماد سازی کا ایک خاموش مگر موثر عمل جاری رکھا گیا۔ یہی وہ امتزاج تھا جس نے پاکستان کو ایک قابل اعتماد ثالث کے طور پر ابھارا۔کشیدگی کی نوعیت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے پس منظر میں کارفرما عوامل کا جائزہ لیا جائے۔ ایران کے لیے یہ معاملہ صرف سیکیورٹی یا عسکری برتری کا نہیں بلکہ خودمختاری، نظریاتی شناخت اور علاقائی اثر و رسوخ کا سوال بھی ہے۔ دوسری جانب امریکا اپنے عالمی کردار کو برقرار رکھنے کے لیے ایسے کسی بھی امکان کو محدود کرنا چاہتا ہے جو اس کی برتری کو چیلنج کرے۔ اسرائیل اس تمام منظرنامے میں ایک ایسے عنصر کے طور پر موجود ہے جو اپنی سلامتی کے نام پر جارحانہ حکمت عملی اختیار کرتا ہے اور خطے میں طاقت کے توازن کو اپنے حق میں رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
ان تینوں کے درمیان پیدا ہونے والا تناؤ کسی بھی وقت ایک بڑے تصادم کی شکل اختیار کر سکتا تھا۔اسی تناظر میں آبنائے ہرمز کی بندش نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ یہ محض ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔ یہاں سے گزرنے والی تیل کی ترسیل میں رکاوٹ کا مطلب عالمی منڈیوں میں بے چینی، قیمتوں میں اضافہ اور معاشی عدم استحکام ہے۔ جب اس اہم گزرگاہ پر پابندی عائد ہوئی تو دنیا بھر کی نظریں اس خطے پر مرکوز ہو گئیں۔ ایسے میں کسی ایسے کردار کی ضرورت تھی جو نہ صرف کشیدگی کو کم کر سکے بلکہ فریقین کو ایک قابل قبول راستے پر بھی لا سکے۔ پاکستان نے یہی خلا پُر کرنے کی کوشش کی۔پاکستان کی سفارتی حکمت عملی کا سب سے اہم پہلو اس کا توازن ہے۔ ایران کے ساتھ اس کے تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی تعلقات ہیں، جب کہ امریکا کے ساتھ اس کے اسٹرٹیجک اور معاشی روابط بھی اہمیت رکھتے ہیں۔
اس دہرے تعلق نے پاکستان کو ایک منفرد حیثیت دی، جسے اس نے ایک موقع کے طور پر استعمال کیا۔ اس نے نہ تو کسی ایک فریق کی مکمل حمایت کی اور نہ ہی غیر جانبداری کے نام پر خاموشی اختیار کی، بلکہ ایک فعال ثالث کے طور پر دونوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنا۔شہباز شریف کی قیادت میں حکومت نے فوری طور پر سفارتی سرگرمیوں کو تیز کیا۔ مختلف ممالک کے ساتھ رابطے کیے گئے اور ایک ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی گئی جہاں بات چیت ممکن ہو سکے۔ اسی دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں بیک چینل سفارتکاری نے اہم کردار ادا کیا۔ یہ وہ سفارتکاری تھی جو منظر عام پر نہیں آئی، مگر اس کے اثرات واضح طور پر محسوس کیے گئے۔
اسی خاموش حکمت عملی نے فریقین کے درمیان اعتماد سازی میں مدد دی۔دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت بیانات اور عسکری تیاریوں کے اعلانات نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا۔ ان بیانات کا مقصد بظاہر دباؤ ڈالنا تھا، مگر اس کے نتیجے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے جنگی تیاریوں کے عندیے نے اس ماحول کو مزید غیر یقینی بنا دیا۔ ایسے میں پاکستان کی جانب سے تحمل اور تدبر کا مظاہرہ ایک متوازن حکمت عملی کا عکاس تھا۔لبنان میں جاری حملوں نے اس بحران کے انسانی پہلو کو نمایاں کیا۔ ہزاروں افراد متاثر ہوئے، بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوا، اور ایک نئے انسانی المیہ نے جنم لیا۔
پاکستان نے اس صورتحال پر محض خاموشی اختیار نہیں کی بلکہ کھل کر مذمت کی اور لبنانی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔ طاہر حسین اندرابی کے بیانات نے اس مؤقف کو واضح کیا کہ پاکستان عالمی انصاف اور انسانی اقدار پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔یہ تمام اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان نے اس بحران کو صرف ایک سفارتی چیلنج کے طور پر نہیں بلکہ ایک موقع کے طور پر دیکھا۔ یہ موقع تھا اپنی ساکھ کو بہتر بنانے کا، عالمی سطح پر اپنا کردار مستحکم کرنے کا، اور ایک ذمے دار ریاست کے طور پر اپنی شناخت کو اجاگر کرنے کا۔ فنانشل ٹائمز جیسے عالمی اداروں کی جانب سے پاکستان کے کردار کا اعتراف اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ کوششیں کامیاب رہی ہیں۔ تاہم، اس کامیابی کے باوجود یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔ ایران کی جانب سے جنگ بندی سے ممکنہ دستبرداری، اسرائیل کی جانب سے مزید کارروائیوں کے عندیے اور امریکا کی عسکری موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حالات اب بھی نازک ہیں۔
ایسے میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی سفارتی کوششوں کو جاری رکھے اور انھیں مزید موثر بنائے۔یہاں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا پاکستان اس کردار کو مستقل بنیادوں پر برقرار رکھ سکتا ہے؟ اس کا جواب اس کی داخلی صورتحال سے جڑا ہوا ہے۔ ایک مضبوط خارجہ پالیسی کے لیے داخلی استحکام ناگزیر ہے۔ معاشی مشکلات، سیاسی عدم استحکام اور ادارہ جاتی کمزوریاں کسی بھی سفارتی کامیابی کو محدود کر سکتی ہیں، اگر پاکستان واقعی ایک موثر عالمی ثالث بننا چاہتا ہے تو اسے اپنے اندرونی مسائل کو بھی حل کرنا ہوگا۔عالمی سیاست میں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے جب کہ نئی طاقتیں ابھر رہی ہیں۔ اس تبدیلی کے دور میں وہی ممالک کامیاب ہوتے ہیں جو حالات کے مطابق خود کو ڈھال سکیں۔ پاکستان نے حالیہ بحران میں یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اس صلاحیت کا حامل ہے، مگر اس صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل محنت، دانشمندانہ فیصلے اور طویل المدتی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ آبنائے ہرمز کی صورتحال نے یہ بھی واضح کر دیا کہ عالمی معیشت کس قدر حساس ہے۔
توانائی کی ترسیل میں معمولی رکاوٹ بھی بڑے پیمانے پر اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ ایسے میں پاکستان کا کردار صرف سیاسی نہیں بلکہ معاشی استحکام کے لیے بھی اہم ہو جاتا ہے، اگر وہ اس توازن کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف اس کے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ہوگا۔مزید برآں، اس بحران نے عالمی اداروں کی محدودیت کو بھی بے نقاب کیا ہے۔ وہ ادارے جو امن کے ضامن سمجھے جاتے ہیں، اکثر ایسے مواقع پر غیر موثر ثابت ہوتے ہیں۔ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے علاقائی طاقتوں کا کردار بڑھ جاتا ہے اور پاکستان نے اس خلا کو بہت حد تک پر کرنے کی کوشش کی ہے۔اگر اس پورے منظرنامے کو ایک وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ دنیا ایک نئے عالمی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں طاقت کے ساتھ ساتھ سفارتکاری، مکالمہ اور تعاون بھی اہمیت اختیار کر رہے ہیں۔
پاکستان نے ان مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی سفارتی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔ مگر اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب یہ کوششیں مستقل بنیادوں پر جاری رہیں اور ایک ایسے نظام کی تشکیل میں مدد دیں جہاں تنازعات کو جنگ کے بجائے مکالمے کے ذریعے حل کیا جا سکے۔دنیا آج جس موڑ پر کھڑی ہے، وہاں فیصلے صرف طاقت کے زور پر نہیں بلکہ دانش، تدبر اور بصیرت کے ذریعے کیے جانے چاہئیں۔ پاکستان نے اس سمت میں ایک مثال قائم کی ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مثال کو ایک مستقل روایت میں تبدیل کیا جائے، تاکہ آنے والی نسلیں ایک ایسے عالمی نظام میں زندگی گزار سکیں جہاں امن محض ایک خواب نہیں بلکہ ایک حقیقت ہو۔