اسلام آباد مذاکرات کے حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے مذاکرات کو پہلا بریک تھرو اور امید کی کرن ہے لیکن اس کے باوجود چینلجز بدستور موجود ہیں جبکہ بیک ڈور ڈپلومیسی اور مذاکرات میں دیگر ممالک کی شرکت کا بھی امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد مذاکرات کے بعد یہ سوال شدت سے زیر بحث ہے کہ آیا یہ مذاکرات کامیاب رہے یا نہیں، تاہم مجموعی تجزیہ یہی ظاہر کرتا ہے کہ انہیں مکمل ناکامی کے بجائے ایک اہم پیش رفت اور امید افزا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ان مذاکرات کی سب سے بڑی کامیابی امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہے، جو کسی بھی بڑے اور پیچیدہ تنازع میں پہلا اور بنیادی قدم سمجھا جاتا ہے، دونوں دیرینہ حریف ممالک کا ایک ہی میز پر بیٹھنا خود ایک بڑی سفارتی پیش رفت ہے، جسے عالمی سطح پر مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بطور ثالث کلیدی کردار ادا کیا، جسے دونوں فریقین کی جانب سے سراہا گیا۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی قیادت میں ہونے والی یہ سفارتی کوششیں محض 24 سے 31 گھنٹوں میں مکمل ہوئیں، جو اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ پیچیدہ تنازعات کے باوجود پیش رفت ممکن ہے، یہ پیش رفت ابتدائی نوعیت کی ہے اور ابھی کئی بڑے چیلنجز درپیش ہیں، اس تنازع کی نوعیت نہایت پیچیدہ اور گہری ہے، جس میں باہمی اختلافات کے ساتھ ساتھ بیرونی عوامل بھی شامل ہیں۔
سفارتی ذرائع نے بتایا کہ جنگ بندی پر مکمل اور مستقل عمل درآمد کو اس عمل کا سب سے بڑا امتحان قرار دیا جا رہا ہے جبکہ دیرپا امن کے لیے مزید کئی ادوار کی بات چیت ناگزیر ہوں گی اور اگلے مرحلے میں بیک چینل ڈپلومیسی اور اعتماد سازی کے اقدامات اہم کردار ادا کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر فریقین نے سنجیدگی کا مظاہرہ جاری رکھا تو قلیل مدت میں کشیدگی میں کمی، درمیانی مدت میں جزوی معاہدے اور طویل مدت میں ایک بڑے سفارتی بریک تھرو کے امکانات موجود ہیں، اسلام آباد مذاکرات کو ایک "پہلا بریک تھرو" قرار دیا جا رہا ہے، نہ کہ مکمل حل جبکہ یہ ایک عمل کا آغاز ہے اختتام نہیں اور اگر یہی رفتار برقرار رہی تو یہ مذاکرات خطے میں بڑی اور مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔