مشرق وسطیٰ بحران کے باوجود صورتحال کو بہتر انداز میں سنبھالا، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

ہارورڈ یونی ورسٹی میں پاکستان کی معیشت پر اعلیٰ سطح کی پینل ڈسکشن کا انعقاد ہوا


ویب ڈیسک April 13, 2026

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ بحران کے باوجود صورتحال کو بہتر انداز میں سنبھالا۔

ہارورڈ یونی ورسٹی میں پاکستان کی معیشت پر اعلیٰ سطح کی پینل ڈسکشن کا انعقاد ہوا، جس میں وزیر خزانہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ تنازعے کو عالمی معیشت کے لیے بڑا سپلائی شاک قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے توانائی کی فراہمی میں تسلسل برقرار رکھا، ابتدائی سبسڈی کے بعد توانائی قیمتوں کی مکمل منتقلی کی گئی جبکہ ٹارگٹڈ سبسڈی کا نظام جاری ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق یورو بانڈ ادائیگی نان ایونٹ رہی اور بیرونی ادائیگیوں کے حوالے سے اعتماد موجود ہے۔ کراچی پورٹ پر ٹرانزٹ ٹریفک میں ریکارڈ اضافہ ہوا جبکہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں مارچ کے دوران ریکارڈ ترسیلات زر موصول ہوئیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ترسیلات زر پائیدار حل نہیں، برآمدات پر توجہ دینا ضروری ہے۔ اصل چیلنج اصلاحات پر عملدرآمد ہے، ٹیکس نظام میں بہتری اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں ڈیجیٹائزیشن اور آٹومیشن کا عمل جاری ہے، جبکہ صنعت کے لیے مستقل سبسڈی کے خاتمے اور مسابقتی ماڈل اپنانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیرف اصلاحات اور عالمی منڈی سے انضمام پر کام ہو رہا ہے۔ ملک میں شمسی توانائی کی پیداوار 8 ہزار میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے اور قابل تجدید توانائی کے حصے میں مزید اضافے کا ہدف ہے۔

مزید برآں، چاروں صوبوں میں زرعی آمدن ٹیکس سے متعلق قانون سازی مکمل کی جا چکی ہے، جبکہ 28 سرکاری اداروں کو نجکاری کے لیے پرائیویٹائزیشن کمیشن پاکستان کے حوالے کیا گیا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ آبادی میں اضافہ اور ماحولیاتی تبدیلی بڑے چیلنجز ہیں، جبکہ کاروباری ماحول کو بہتر بنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔