دادو میں گندم چوری کا بڑا اسکینڈل سامنے آگیا، جہاں ہزاروں گندم کی بوریاں چوری اور ناکارہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس سے کروڑوں روپے کا نقصان بتایا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر کے دورے کے دوران، گندم خردبرد کی شکایات پر معاملہ بے نقاب ہوا۔ تحقیقات میں ضلع کے مختلف اناج مراکز پر بھی گندم چوری کے شواہد ملے، جبکہ محکمہ خوراک کے ضلعی آفیسر کے کیمپ آفس سے بھی ہزاروں بوریاں غائب ہونے کا انکشاف ہوا۔
جوہی اناج مرکز پر بڑی تعداد میں گندم کی بوریاں غائب اور ناکارہ پائی گئیں، جس سے بڑے پیمانے پر کرپشن کا پتہ چلا۔ اس معاملے پر فوڈ آفیسر سرور سومرو کے خلاف اینٹی کرپشن کیس درج کر لیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسکینڈل میں ملوث افسران کو دوبارہ تعینات کیے جانے کا بھی انکشاف ہوا ہے، جس سے محکمہ کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
دادو کے فوڈ کنٹرولر منصور میرانی، جو گزشتہ چار سال سے اپنے عہدے پر تعینات ہیں، نے متعدد رابطوں کے باوجود اس معاملے پر بات کرنے سے انکار کر دیا۔
محکمہ اینٹی کرپشن سندھ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے مزید کارروائی شروع کر دی ہے۔