پنجاب اسمبلی میں کم عمری میں شادی پر پابندی کا آرڈینینس منظور

نکاح رجسٹر کرنے والے اور نکاح خواہ کو کم از کم ایک سال قید اور ایک لاکھ جرمانہ ہوگ


ویب ڈیسک April 13, 2026

قائمہ کمیٹی لوکل گورنمنٹ پنجاب اسمبلی نے کم عمری میں شادی پر پابندی کا آرڈینینس منظور کر لیا.

قائمہ کمیٹی اجلاس کی صدارت چیئرمین کمیٹی پیر اشرف رسول نے کی۔ آرڈینینس کے متن کے مطابق پنجاب میں اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کی شادی نہیں ہوسکے گی۔ نکاح کے وقت دلھا اور دلھن کی عمر اٹھارہ سال ہونا لازمی ہے۔ 

کم عمری کی شادی قابلِ سزا جرم  اور کرمنل ایکٹ کے تحت کاروائی ہوگی۔ کم عمری کا نکاح رجسٹر کرنے والے اور نکاح خواہ کو کم از کم ایک سال قید اور ایک لاکھ جرمانہ ہوگا۔

کم عمر بچے یا بچی سے شادی کرنے والے کو 3 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔ 18 سال سے کم عمر کی شادی کو زیادتی کے زمرے میں شمار کیا جائے گا جبکہ اسکی سزا 7 سال اور 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے 18 سال سے کم عمر کے بچوں کو کسی دوسرے صوبے میں لے جا کر شادی کروانے والے کو 7 سال قید 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔

18 سال سے کم عمر کے بچوں کے سرپرست یا کوئی بھی شخص اگر کم عمر کی شادی کروانے کی کوشش کرے گا تو اسکو 2 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ ہوگا۔ نکاح رجسٹرار اور والدین بھی لاپرواہی پر قانون کی زد میں آئیں گے۔