لبلبے کے کینسر کی نئی دوا میں اہم پیشرفت!

یہ نتائج 500 افراد پر مشتمل فیز تھری ٹرائل میں سامنے آئے


ویب ڈیسک April 14, 2026

ایک کلینیکل آنکولوجی کمپنی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا میں لبلبے کے آخری مرحلے کے کینسر کے علاج کے لیے ایک نئی گولی کی آزمائش کی گئی ہے جو روایتی کیموتھراپی کے مقابلے میں مریضوں کی زندگی تقریباً دوگنی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

تحقیق میں معلوم ہوا کہ لبلبے کے کینسر کے مریض (جن کی موت سے بچ جانے کی شرح دیگر کینسرز کے مقابلے میں سب سے کم سمجھی جاتی ہے) اگر روزانہ ایک بار لی جانے والی دوا ڈریکسونراسب استعمال کریں تو اُن میں موت کا خطرہ صرف کیموتھراپی کروانے والوں کے مقابلے میں 60 فیصد تک کم ہو سکتی ہے ۔

یہ نتائج 500 افراد پر مشتمل فیز تھری ٹرائل میں سامنے آئے، جو اس دوا کو ایک زیادہ مؤثر اور کم تکلیف دہ علاج بنا سکتے ہیں۔

اس متعلق ہارورڈ میڈیکل اسکول کے پروفیسر برائن وولپن کا کہنا تھا کہ یہ دوا اُن مریضوں کے لیے بھی امید کی نئی کرن ثابت ہو سکتی ہے جن میں کیموتھراپی کے باوجود کینسر پھیلتا رہتا ہے۔