نجی اسکولوں میں مفت تعلیم کوٹہ کی مانیٹرنگ کے لیے کمیٹی قائم، عدالت میں جمع کروا دی گئی

تعلیمی سیشن 2025-26 کے لیے اسکالر شپ پر زیر تعلیم طلباء کا ڈیٹا فوری طلب کیا گیا ہے، پیرا رپورٹ


ویب ڈیسک April 14, 2026

اسلام آباد:

اسلام آباد ہائی کورٹ میں نجی اسکولوں میں 10 فیصد مفت تعلیم کے کوٹے پر عمل درآمد سے متعلق کیس میں رپورٹ جمع کروا دی گئی۔

رپورٹ پرائیویٹ ایجوکیشن انسٹیٹیوشن ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) کی جانب سے جمع کروائی گئی۔

پیرا رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کے 5 زونز میں 1571 نجی تعلیمی ادارے کام کر رہے ہیں، وفاقی دارالحکومت کے پرائیویٹ اسکولوں میں 3 لاکھ 89 ہزار طلباء زیر تعلیم ہیں، اب تک 500 نجی تعلیمی اداروں نے اپنے انفرا اسٹرکچر اور طلباء کی تعداد کا ڈیٹا جمع کروا دیا۔

رپورٹ کے مطابق نو چائلڈ لیفٹ بی ہائنڈ مہم کے تحت 25 ہزار بچوں کو اسکولوں میں داخل کرنے کا ہدف مقرر ہے، رولز کے تحت یتیم اور شہداء کے بچوں کو 10 فیصد اسکالر شپ اسکیم میں ترجیح دی جائے گی۔ نجی اسکولوں میں رائٹ ٹو فری اینڈ کمپلسری ایجوکیشن ایکٹ 2012 پر عمل درآمد شروع ہوچکا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ پیرا نے نجی اسکولوں میں مفت تعلیم کے کوٹے کی تصدیق کے لیے مانیٹرنگ کمیٹی بنا دی، متعدد نجی اسکولوں نے 10 فیصد کوٹے کے تحت مفت تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کی فہرستیں جمع کروا دیں۔ اسکولوں سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کا عمل جاری ہے۔

پیرا رپورٹ کے مطابق پی ای آئی آر اے (پیرا) کا تمام رجسٹرڈ نجی تعلیمی اداروں کو 10 فیصد مفت تعلیم کے کوٹے پر عملدرآمد کا حکم ہے۔ تعلیمی سیشن 2025-26 کے لیے اسکالر شپ پر زیر تعلیم طلباء کا ڈیٹا فوری طلب کیا گیا ہے، ڈیٹا جمع نہ کرانے والے اسکولوں کے خلاف پی ای آئی آر اے ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

نجی اسکولوں کو مینوئل کے ساتھ ساتھ آن لائن پورٹل پر بھی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت ہے، رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کی تجدید کو 10 فیصد نیڈ بیسڈ اسکالرشپ پالیسی سے مشروط کر دیا گیا۔