بھارتی پروپیگنڈا فلم ’دھرندھر‘ کے جواب میں لیاری کا مثبت اور حقیقی چہرا دکھانے کے لیے فلم ’میرا لیاری‘ کا پریمیئر یوکے اشین فلم فیسٹیول میں ہوگا۔
بھارتی باکس آفس پر ریکارڈ توڑ بزنس کرنے والی متنازع فلم ’دھرندھر‘ کے جواب بنائی گئی فلم ’میرا لیاری‘ میں کراچی کے شہر کا حقیقی اور مثبت چہرا دکھایا گیا ہے۔
یہ فلم صرف پاکستان تک محدود نہیں ہوگی بلکہ 2 مئی 2026 کو منعقد ہونے والے 28ویں بین الاقوامی ’یوکے ایشین فلم فیسٹول‘ میں پریمئر کی جائے گی۔
چند ماہ کی تاخیر اور ڈیڈ لائنز مس ہونے کے بعد فلم ’میرا لیاری‘ بالآخر ریلیز کے لیے تیار ہے، اس فلم کو بھارت کی ’دھرندھر‘ سیریز اور کراچی کے علاقے لیاری کی منفی تصویر کشی کے جواب کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
یہ اعلان ایگزیکٹو پروڈیوسر عائشہ عمر نے ہفتے کے روز کیا، فلم کی نمائش 2 مئی کو لندن کے ساؤتھ بینک میں واقع برٹش فلم انسٹیٹیوٹ میں کی جائے گی جس کے ٹکٹس دستیاب ہیں۔
عائشہ عمر کے مطابق یہ وہ لمحہ ہے جو لیاری کی روح کو عالمی سطح پر متعارف کرائے گا، اس کے بعد فلم پاکستان میں ریلیز ہوگی۔
یہ فلم ’دھرندھر‘ میں دکھائی گئی تمام فرسودہ کہانیوں کا جواب ہے جو لیاری کو صرف بدامنی سے جوڑتی ہیں، یہ کہانی اس علاقے کی باہمت افراد، ان کی ثقافت اور فٹبال کے جنون کے گرد گھومتی ہے جس نے لیاری کی دنیا کو منی برازیل کا خطاب دلوایا۔
یہ فلم جہاں دھرندھر کے پروپیگنڈہ کو بے نقاب کرتی ہے، وہیں کراچی کے اس قدیم علاقے کا وہ رخ پیش کرتی ہے جو کھیل اور امن اور ٹیلنٹ سے مشہور ہے، پاکستانی سینما دنیا کو یہ پیغام دینے جارہا ہے کہ لیاری کی گلیوں میں صرف گینگ وار نہیں بلکہ عالمی سطح کا ٹیلنٹ اور خواب پلتے ہیں۔
https://www.instagram.com/p/DW_8eONiLvE/?utm_source=ig_embed&ig_rid=389b6cc4-3a27-4dec-b360-f260c4e26eab
فلم میں عائشہ عمر کے ساتھ نیئراعجاز، پارس مسرور، سامیا ممتاز، دینانیر مبین، عدنان شاہ ٹیپو اور شعیب حسن شامل ہیں جب کہ یہ ماڈل ٹرینیٹ لوکاس کی فلمی دنیا میں پہلی انٹری بھی ہے، جنہوں نے اس پروجیکٹ کو دلچسپ، اعصاب شکن اور یادگار قرار دیا۔
فلم کی کہانی ایک معذور فٹبال کوچ (عائشہ عمر) کے گرد گھومتی ہے جو طویل عرصے بعد لیاری واپس آتی ہیں تاکہ وہاں کی لڑکیوں کے ٹرائلز لے سکیں۔ وہاں افسانہ (دنانیر موبین)، جو اپنے سخت گیر والد کی مخالفت کرتی ہے، اور کشمالہ (ٹرینیٹ لوکاس)، جو جبری شادی سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے، فٹبال میں آزادی کا راستہ تلاش کرتی ہیں اور خفیہ طور پر کوچ کے ساتھ ٹریننگ کرتی ہیں تاکہ قومی سطح پر کھیلنے کا موقع حاصل کر سکیں۔
اس سے قبل ہدایتکار ابو علیحہ نے کہا تھا کہ فلم کی سب سے بڑی طاقت اس کی حقیقت پسندی ہے کیونکہ اسے لیاری میں انہی لوگوں کے ساتھ فلمایا گیا جو اس علاقے کو بخوبی جانتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 80 فیصد کاسٹ، بشمول معاون اداکار، مقامی فٹبال ٹیموں کے ارکان اور یہاں تک کہ ہمارے ہیرو شعیب حسن اصل لیاری کے رہائشی ہیں۔