پاکستان ریلویز میں ٹرینوں کے حادثات معمول بن گئے، انفرا اسٹرکچر کو کروڑوں کا نقصان

نجی کمپنیوں کے اشتراک سے چلائی جانے والی ریل گاڑیوں کے حادثات میں بھی کمی نہ آ سکی


طالب فریدی April 14, 2026

لاہور:

ریل گاڑیوں سے سفر کرنے والے لاکھوں مسافروں کی جان اور مال سب اللہ تعالیٰ کے حوالے کیونکہ پاکستان ریلویز کی مسافر ریل گاڑیاں ہوں یا مال بردار، پہلے سے کھڑی ریل گاڑی سے ٹکرانے یا چلتی ریل گاڑیوں کا اچانک پٹڑیوں سے اتر کر حادثات کا شکار ہونا ایک معمول بن چکا ہے۔

حادثات کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام میں ریلوے انتظامیہ ناکام ہو چکی ہے۔ وزیر ریلوے حنیف عباسی کی سخت ترین ہدایات اور وارننگ کے باوجود ریلوے افسران کے کان پر جوں تک نہ رینگی، مسافروں کی جان جاتی ہے تو جائے، کروڑوں اربوں روپے کا مال تباہ برباد ہوتا ہے تو ہو جائے، کسی بھی ریلوے افسر کو فرق نہیں پڑتا۔

ایکسپریس نیوز کو ملنے والی معلومات اور اعداد وشمار کے مطابق پاکستان ریلویز کی جانب سے نجی کمپنیوں کے اشتراک سے چلائی جانے والی ریل گاڑیوں کے حادثات میں کمی نہ آ سکی، حالات اس قدر خراب ہو چکے ہیں کہ مسافر ٹرینوں کے ساتھ ساتھ مال بردار ٹرینوں کا پٹڑیوں سے اترنا معمول بن گیا ہے۔

ریل گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے حادثات سے مین لائن پر چلنے والی ٹرینوں کا شیڈول بھی درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔ کے پی کے سے لیکر سندھ تک چلنے والی درجنوں مسافر اور مال بردار ریل گاڑیوں کی روانگی میں کئی کئی گھنٹے تاخیر معمول بن چکی ہے۔

مسافر ہزاروں روپے کی ٹکٹ لیکر ریلوے اسٹیشن پر ٹرین کے انتظار میں گھنٹوں سولی پر لٹکے رہنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ حادثات کی وجہ سے اور کئی روز گزرنے کے بعد ٹرینوں کا شیڈول معمول پر آتا ہے جبکہ وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کی سخت ہدایات بھی کسی کام نہ آسکیں۔

ریلوے ذرائع کے مطابق یکم جنوری سے لے کر اب تک مسافر اور مال بردار ٹرینوں کے پٹڑیوں سے اترنے اور پہلے سے کھڑی ریل گاڑیوں کے آپس میں ٹکرانے سمیت مختلف نوعیت کے 20 سے زائد حادثے رونما ہو چکے ہیں جن میں تین افراد جان بحق اور سیکڑوں مسافر زخمی ہوئے جبکہ حادثات کی وجہ سے پاکستان ریلوے کے انفرا اسٹرکچر کو بھی کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا۔

ٹرینوں کے پے درپے حادثات سے ریلوے کے سیفٹی مینٹنس نظام پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے اور ایک ماہ میں ٹرینوں کے کئی حادثے ہونے سے پریشانی کی لہر پیدا ہوتی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ تیز گام ٹرین کو لودھراں کے قریب حادثہ پیش آیا، ٹرین کی بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں جس کے باعث بعض مسافر زخمی ہوگئے۔ اسی طرح شالیمار ایکسپریس ٹرین روہڑی کے قریب کھڑی مال گاڑی سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں ایک ریلوے ملازم ندیم شاہ جاں بحق ہوگیا تھا، جس کے بعد قراقرم ایکسپریس ٹرین خانیوال کے قریب کپلنگ ٹوٹنے سے دو حصوں میں تقسیم ہوگئی اور ٹرین بڑے حادثے سے بال بال بچ گئی۔

اسی طرح، کراچی سے براستہ لاہور راولپنڈی جانے والی ٹرین گرین لائن بھی وزیر آباد کے قریب بڑے حادثے سے بال بال بچ گئی۔ ٹرین کے بفر ٹوٹ گئے تاہم  اس دوران ریلوے ٹریک کے ساتھ ریل سلیپر بھی ٹوٹ گئے جس کی وجہ سے ٹرین کو ایمرجنسی بریک لگا کر روک لیا گیا۔

اس کے بعد 6 اپریل کو پڈعیدن کے قریب مال گاڑی پٹڑی سے اتر گئی جس کے باعث مین لائن پر ریلوے ٹریفک معطل ہو کر رہ گئی تھی جبکہ گزشتہ روز شہدادپور کے قریب کراچی سے لاہور آنے والی شالیمار ایکسپریس ٹرین  کی تین بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں۔

وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے ٹرینوں کے ہونے والے حادثات کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور ابتدائی رپورٹ میں ٹرین آپریشن سے متعلقہ ریلوے ملازمین کو حادثات کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے جبکہ ترجمان پاکستان ریلویز کا کہنا ہے کہ سفر کو محفوظ بنانے کے لیے سیفٹی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا گیا بلکہ سیفٹی کے معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے نیا ڈائریکٹوریٹ بنا دیا گیا ہے جہاں قابل ترین افسران اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔

ترجمان کے مطابق خستہ حال ٹریک پر انجینیئرنگ رسٹکشںنز بھی لگائی گئی ہیں، رہی بات ریلوے ملازمین کی نااہلی اور بدانتظامی کی تو ان کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جاتی ہے اور باقاعدہ تحقیقات ہوتی ہیں جس کے بعد ذمہ داروں کو سزائیں بھی دی گئی ہیں اور جیل بھی گئے۔