ترکیے میں ایک اور اسکول میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک کم عمر طالب علم اور ٹیچر سمیت 4 طلبہ جاں بحق اور 20 زخمی ہوگئے۔
غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ترکیے کے صوبے کاہرامانماراس کے گورنر مکرم اونلوئر نے بتایا کہ جنوب مشرقی ترکی میں قائم ایک مڈل اسکول میں مسلح شخص داخل ہوا اور فائرنگ شروع کردی، جس کے نتیجے میں ایک ٹیچر اور 3 طلبہ جاں بحق اور دیگر 20 زخمی ہوگئے۔
ترکیے میں اسکول میں فائرنگ کا دو روز میں یہ دوسرا واقعہ ہے۔
گورنر نے بتایا کہ مسلح حملہ آورطالب علم نے ٹیچر اور طلبہ کو قتل کرنے کے بعد خود کو بھی گولی مار دی جبکہ زخمی بچوں میں سے 4 کی حالت تشویش ناک ہے جن کی سرجری کی جا رہی ہے۔
واقعے کی تفصیلات سے آغاہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ آٹھویں جماعت کے ایک طالب علم اپنے بیگ میں 5 بندوق اور 7 میگیزنز لے کر آیا تھا اور کلاس رومز میں داخل ہوا جہاں پانچویں جماعت کے بچے موجود تھے اور اندھادھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں اور متعدد طلبہ زخمی ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور کے پاس موجود اسلحے کے حوالے سے خیال ہے کہ وہ ان کے والد کا ہے جو سابق پولیس افسر ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ترکیے میں آٹھویں جماعت کے طالب علم کی عمر عام طور پر 13 یا 14 سال ہوتی ہے اور پانچویں جماعت کے طلبہ کی عمریں 10 اور 11 برس کے درمیان تھیں۔
ترکیے میں اسکول میں فائرنگ کے واقعات غیرمعمولی ہیں جہاں گزشتہ روز بھی جنوب مشرقی ترکیے کے اسکول میں فائرنگ سے 17 افراد زخمی ہوئے تھے۔
خبرایجنسی کے مطابق جنوب مشرقی صوبے سان لیورفا میں قائم اسکول کے سابق طالب علم نے فائرنگ کی تھی، جس میں ایک ٹیچر بھی زخمی ہوئی تھیں جبکہ حملہ آور نے بعد میں خودکشی کرلی تھی۔