شہر میں ہیوی ٹریفک گردی جاری ہے جہاں واٹر ٹینکر نے ایک اور نوجوان کی جان لے لی جبکہ دوست زخمی ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق قائد آباد چاول گوادم کے قریب تیز رفتار واٹر ٹینکر نے موٹرسائیکل سوار کو کچل دیا جس کے نتیجے میں ایک نوجوان جاں بحق جبکہ اُس کا دوست زخمی ہوگیا۔
حادثے کے بعد ریسکیو رضاکاروں نے میت اور زخمی کو اسپتال منتقل کیا جبکہ ڈرائیور موقع سے فرار ہوگیا۔ پولیس نے جائے وقوعہ پہنچ کر شواہد اکھٹے کیے اور واٹر ٹینکر کو تھانے منتقل کردیا۔
اس حوالے سے ایس ایچ او قائد آباد محمد علی شاہ نے بتایا کہ جاں بحق نوجوان کی شناخت 17 سالہ اندان راجہ کے نام سے کی گئی جبکہ زخمی ہونے والے 20 سالہ عدنان کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ فوری طور پر حادثے کی نوعیت کا معلوم نہیں ہوسکا کہ حادثہ کیسے پیش آیا اس حوالے سے پولیس جائے وقوعہ پر عینی شاہدین سے معلومات حاصل کر رہی ہے ۔
پولیس فرار ہونے والے ڈرائیور کو سرگرمی سے تلاش کر رہی ہے ، انھوں نے مزید بتایا کہ دونوں نوجوان قائد آباد شیر پاؤ کالونی کے رہائشی بتائے جاتے ہیں اور اس حوالے سے پولیس مزید تحقیقات کر رہی ہے۔
ٹریک حادثات میں 295 افراد جاں بحق
رواں سال کے ساڑھے تین ماہ (یکم جنوری سے 15 اپریل) کے دوران جان لیوا خونی ٹریفک حادثات میں مجموعی طور پر 295 افراد زندگی سے محروم جبکہ 3 ہزار 205 افراد زخمی بھی ہوئے۔
اعداد و شمار کے مطابق ہیوی گاڑیوں سے پیش آنے والے دلخراش ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 100 ہوگئی جس میں سب سے زیادہ 46 جان لیوا ٹریفک حادثات کا زمہ دار ٹریلر نکلا ۔
ترجمان چھیپا فاؤنڈیشن چوہدری شاہد کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق شہر میں جان لیوا ٹریفک حادثات میں مرنے والے 295 افراد مین سے 217 مرد ، 39 خواتین ، 30 بچے اور 9 بچیاں شامل ہیں۔
اسی دورانیے میں ٹریفک حادثات میں مجموعی طور پر 3 ہزار 205 افراد زخمی بھی ہوئے جس میں 2 ہزار 477 مرد ، 535 خواتین ، 143 بچے اور 50 بچیاں شامل ہیں۔
ترجمان چھیپا فاؤنڈیشن کے مطابق شہر میں 105 روز میں ہیوی گاڑیوں سے پیش آنے والے جان لیوا خونی حادثات میں زندگی کی بازی ہارنے والوں کی مجموعی تعداد 100 ہوگئی ہے جس میں سب سے زیادہ 46 جان لیوا حادثات کا ذمہ ٹریلر نکلا۔
اس کے علاوہ واٹر ٹینکر کی ٹکر سے 29 افراد، بس کی ٹکر سے 11 افراد، مزدا کی ٹکر سے 9 جبکہ ڈمپر کی ٹکر سے 5 افراد زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
شہر میں ہیوی گاڑیوں سے روز کی بنیاد پر رونما ہونے والے جان لیوا خونی حادثات کے حوالے سے شہری حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹریفک قوانین پر عملدرآمد ہر شہری کی ذمہ داری ہے اور خلاف ورزی پر قانون کو بھی حرکت میں آنا چاہیے تاہم شہر میں ہیوی گاڑیوں کی حد رفتار کو جانچنے کا کوئی پیمانہ دکھائی نہیں دیتا۔
شہر میں ڈمپر ، ٹریلر ، ٹرک ، واٹر ٹینکرز ، منی بسیں اور کوچز سمیت دیگر مال بردار منی ٹرک شہر کی سڑکوں پر تیز رفتاری اور ٹریفک قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جس کی سب سے بڑی وجہ ان کی حد رفتار کو چیک کرنے کا کوئی سسٹم ہی نہیں ہے ۔
اس بات کا بھی تاحال تعین نہیں ہوسکا کہ ٹریفک پولیس افسران کی جانب سے دی جانے والی ہدایت کے بعد ٹریلر ، ڈمپر اور واٹر ٹینکرز سمیت دیگر گاڑیوں میں کیمروں کی تنصیب کا عمل کہاں تک پہنچا اور اس پر کس حد تک عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکا تاکہ ان کی اوور اسپیڈ کو چیک کیا جا سکے۔
شہر میں ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانے میں صرف عام شہریوں جس میں کار اور موٹر سائیکل سوار شامل ہیں انھیں ہی خصوصی اسنیپ چیکنگ میں روک کر چیک کیا جاتا ہے جبکہ ہیوی گاڑیوں کی چیکنگ کا کوئی پیمانہ دکھائی نہیں دیتا جس کے باعث آئے روز ہیوی گاڑیاں شہریوں کی زندگیوں کو نگل رہی ہیں اور متعلقہ حکام چین کی بانسری بجا رہے ہیں۔