سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے حج قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں اور غیر قانونی طور پر حج میں معاونت کرنے والوں کے لیے سخت سزاؤں اور جرمانوں کا اعلان کیا ہے جو 18 اپریل (یکم ذوالقعدہ) سے شروع ہو کر 14 ذوالحجہ تک نافذ العمل رہیں گی۔
اے پی پی کی رپورٹ میں سعودی عرب کے میڈیا کے حوالے سے بتایا گیا کہ سعودی وزارت داخلہ کے فیصلے کے تحت جو افراد بغیر حج پرمٹ کے حج کرنے یا مکہ مکرمہ اور مشعائر مقدسہ (مقاماتِ حج) میں داخل ہونے کی کوشش کریں گے ان پر 20 ہزار ریال جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ وزٹ ویزہ رکھنے والوں کو غیر قانونی طور پر حج کرانے، انہیں ٹرانسپورٹ فراہم کرنے، رہائش دینے یا مکہ میں چھپانے والوں پر ایک لاکھ ریال تک جرمانہ ہوگا، یہ جرمانہ ہر ایک اضافی فرد کے حساب سے بڑھتا جائے گا، غیر قانونی نقل و حمل کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیاں عدالتی حکم کے ذریعے ضبط کر لی جائیں گی۔
مزید بتایا گیا کہ وہ مقیم غیر ملکی یا ویزہ کی مدت سے زائد قیام کرنے والے افراد جو بغیر پرمٹ حج کریں گے انہیں مملکت سے بے دخل کر دیا جائے گا اور ان پر 10 سال تک سعودی عرب داخلے پر پابندی ہوگی۔
سعودی وزارت داخلہ کے مطابق سزا یافتہ شخص 30 دن کے اندر متعلقہ کمیٹی میں شکایت درج کرا سکتا ہے اور کمیٹی کے فیصلے کے خلاف 60 دن کے اندر انتظامی عدالت میں اپیل کرنے کا حق رکھتا ہے۔
وزارت داخلہ کی جانب سے عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں مکہ ریجن میں ’911‘ پر اطلاع دیں، یہ اقدامات حج کے عمل کو منظم بنانے اور زائرین کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔