انٹرپول ریڈ نوٹس کیس: عدالت کا حکام پر اظہار برہمی

اسلام آباد ہائی کورٹ میں 5سال قبل بری ہونے کے باوجود انٹرپول ریڈ نوٹس میں نام شامل کیے جانے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی


ویب ڈیسک April 16, 2026
فوٹو: فائل

اسلام آباد ہائی کورٹ میں پانچ سال قبل بری ہونے کے باوجود انٹرپول ریڈ نوٹس میں نام شامل کیے جانے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔

عدالتی حکم کے باوجود پیش نہ ہونے پر عدالت نے سیکرٹری داخلہ سمیت دیگر افسران کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا، تاہم سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشد حفیظ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ریڈ نوٹس سے درخواست گزار کا نام نکال دیا گیا ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس  خادم حسین سومرو بیوروکریسی کے رویے پر برہم ہوگئے اور جوائنٹ سیکرٹری داخلہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ سینئر افسر ہیں، آپ کی ذمہ داری ہے عدالتی احکامات پر عمل کریں، ہم نہیں چاہتے آپ کا کیریئر متاثر ہو۔

عدالت نے وارننگ دیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آئندہ عدالتی احکامات پر عمل نہ کیا گیا تو توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی، جبکہ عدالت نے سرکاری افسران کے رویے پر سخت تشویش کا اظہار بھی کیا۔

جسٹس خادم حسین سومرو نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمے میں کہا کہ افسران سرکاری وکلا کی ہدایات تک نہیں مانتے، اگر ایک دو افسران کو سزا ہو جائے تو سب وقت پر عدالت میں پیش ہونا شروع ہو جائیں گے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق ریڈ نوٹس کے معاملے میں پروسیجرل مسئلہ تھا جسے عدالتی حکم پر حل کر لیا گیا، جس پر عدالت نے عملدرآمد مکمل ہونے کے بعد کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔