اسرائیل کو ’’قدرت کی سزا‘‘، لاکھوں شہد کی مکھیوں کا ’’حملہ‘‘، ویڈیوز وائرل

کئی صارفین نے اسے بائبل میں بیان کردہ واقعات سے جوڑتے ہوئے ’’آسمانی نشانی‘‘ قرار دیا


ویب ڈیسک April 16, 2026

اسرائیل کے مختلف علاقوں میں شہد کی مکھیوں کے بڑے بڑے جھنڈ اچانک نمودار ہونے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہورہی ہیں۔

شہد کی مکھیوں کے جھنڈ کی ویڈیوز دیکھ کر کچھ صارفین اسے ایک غیر معمولی قدرتی واقعہ جبکہ کئی لوگ اسے اسرائیل کے لیے ’’قدرتی انتباہ‘‘ یا ’’سزا‘‘ قرار دے رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق جنوبی اسرائیل کے شہر نیتیووت میں ہزاروں کی تعداد میں شہد کی مکھیاں ایک ساتھ اتر آئیں، جس کے باعث بازاروں اور تجارتی مراکز میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ منظر کسی فلمی یا ’’قیامت خیز‘‘ منظر سے کم نہیں تھا، جہاں ہر طرف پرواز کرتی مکھیوں نے لوگوں کو گھروں اور دکانوں کے اندر رہنے پر مجبور کردیا۔

حکام کی جانب سے فوری طور پر شہریوں اور کاروباری افراد کو ہدایت دی گئی کہ وہ دروازے اور کھڑکیاں بند رکھیں تاکہ کسی ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے۔ بعض اطلاعات میں یہ بھی سامنے آیا کہ مکھیوں کے ایک بڑے جھنڈ نے ایک فوجی طیارے کو اڑان بھرنے سے روک دیا کیونکہ وہ اس کے انجن کے قریب جمع ہوگئی تھیں۔

سوشل میڈیا پر اس واقعے کو لے کر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ کئی صارفین نے اسے بائبل میں بیان کردہ واقعات سے جوڑتے ہوئے اسے ’’آسمانی نشانی‘‘ قرار دیا، جبکہ کچھ نے اسے اسرائیل کے لیے ایک تنبیہ یا قدرتی ردعمل کے طور پر پیش کیا۔ مختلف پوسٹس میں قدیم مذہبی حوالہ جات بھی شیئر کیے جا رہے ہیں، جس سے اس واقعے نے مزید بحث کو جنم دیا ہے۔

تاہم ماہرینِ شہد بانی (beekeepers) اور ماہرین ماحولیات اس معاملے کو ایک قدرتی عمل قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق سال کے مخصوص موسم میں شہد کی مکھیاں بڑی تعداد میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتی ہیں، جسے ’swarming‘ کہا جاتا ہے۔ اس دوران مکھیوں کا ایک بڑا گروہ اپنی ملکہ کے گرد جمع ہو کر نئی جگہ کی تلاش میں نکلتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ منظر غیر معمولی اور خوفناک محسوس ہوسکتا ہے، لیکن عام طور پر ایسی مکھیاں حملہ آور نہیں ہوتیں بلکہ عارضی طور پر آرام کر رہی ہوتی ہیں۔ گرم موسم اور بہار کے آغاز میں پھولوں کی کثرت بھی ایسے جھنڈوں کی تعداد میں اضافہ کر دیتی ہے۔

یوں جہاں ایک طرف سوشل میڈیا پر اس واقعے کو مختلف مذہبی اور جذباتی زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے، وہیں سائنسی نقطہ نظر کے مطابق یہ ایک قدرتی موسمی عمل ہے، جسے غیر معمولی ضرور کہا جاسکتا ہے مگر پراسرار یا ماورائی قرار دینا درست نہیں۔