ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کا اعلان کردیا جس پر صدر ٹرمپ نے شکریہ بھی ادا کیا تاہم پاسداران انقلاب نے نئی شرائط وضع کردیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے یہ شرائط اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پیش کی جس میں بحری جہازوں کی ملکیت رکھنے والوں کے لیے ہدایات بھی ہیں۔
پاسداران انقلاب نے ہدایت کی ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر بحری جہاز کو ان سے اجازت لینا ہوگی جس کے بغیر کسی کو جانے نہیں دیا جائے گا۔
علاوہ ازیں صرف سویلین تجارتی جہازوں کو مخصوص راستوں سے گزرنے کی اجازت ہوگی البتہ فوجی جہازوں کے داخلے پر مکمل پابندی برقرار رہے گی۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب پہلے ہی خبردار کر چکی ہے کہ کوئی بھی فوجی جہاز اگر آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا تو اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا اور سخت ردعمل دیا جائے گا۔
پاسداران انقلاب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات لبنان میں جنگ بندی کے بعد میدان جنگ میں خاموشی کے معاہدے کے تحت کیے جا رہے ہیں۔
قبل ازیں ایرانی حکومت نے بھی کہا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام جہازوں کو ایرانی فورسز سے اجازت لینا ہوگی اور صرف ایران کے پہلے سے متعین کردہ آبی راستے پر سفر کرنا ہوگا۔