پنجاب میں معدومی کے خطرات سے دوچار گدھ ایک بار پھر نظر آنے لگے

یوریشین گریفن گدھوں کی بڑی تعداد یزمان کے مقام ٹوبہ تھارو لال میں دیکھی گئی


آصف محمود April 18, 2026

پنجاب میں معدومی کے خطرات سے دوچار گدھ ایک بار پھر قدرتی ماحول میں دکھائی دینے لگے ہیں، جسے ماہرین نے تحفظ کی کوششوں کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق دو روز قبل رحیم یار خان کے علاقے یزمان کے مقام ٹوبہ تھارو لال میں یوریشین گریفن گدھوں کی بڑی تعداد دیکھی گئی جس نے ماہرین جنگلی حیات کی توجہ حاصل کر لی ہے۔

ماہرین کے مطابق یوریشین گریفن گدھ پاکستان میں زیادہ تر شمالی پہاڑی علاقوں، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور بلوچستان کے بعض حصوں میں پائے جاتے ہیں، جبکہ پنجاب میں ان کی موجودگی محدود اور غیر معمولی سمجھی جاتی ہے۔ جنوبی پنجاب خصوصاً چولستان میں ان کا نظر آنا عموماً خوراک کی تلاش یا موسمی نقل مکانی سے جوڑا جاتا ہے۔

اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجر رحیم یار خان مجاہد کلیم کے مطابق پاکستان میں ان گدھوں کی درست آبادی کا تعین نہیں ہو سکا، تاہم ملک میں ان کی تعداد کم اور منتشر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں یہ پرندہ نایاب تصور کیا جاتا ہے اور یہاں اس کی افزائش کے شواہد بھی محدود ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ یہ گدھ بنیادی طور پر مردار خور ہیں اور مردہ جانوروں پر انحصار کرتے ہیں، جس سے ماحول میں صفائی کا قدرتی نظام برقرار رہتا ہے۔

ماہر جنگلی حیات اور کیپٹو وائلڈ لائف مینجمنٹ کمیٹی پنجاب کے رکن بدر منیر کے مطابق ان گدھوں کو سب سے بڑا خطرہ زہریلی ویٹرنری ادویات، خصوصاً ڈائیکلوفیناک سے لاحق ہے جو مردہ مویشیوں کے ذریعے ان کے جسم میں داخل ہو کر جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ ان کے علاوہ مسکن میں کمی، خوراک کی قلت، بجلی کی تاروں سے ٹکراؤ اور انسانی مداخلت بھی ان کی بقا کے لیے خطرات میں شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں گدھوں کی کئی اقسام شدید کمی کا شکار ہیں اور بعض معدومی کے دہانے پر ہیں، جبکہ یوریشین گریفن گدھ عالمی سطح پر نسبتاً کم خطرے کی حامل نوع ہے، تاہم مقامی سطح پر اس کی کم ہوتی تعداد تشویش کا باعث ہے۔

ایڈیشنل چیف وائلڈ لائف رینجر ساؤتھ پنجاب شیخ محمد زاہد نے بتایا کہ گدھوں کے تحفظ کے لیے آگاہی مہمات، محفوظ علاقوں کا قیام اور نقصان دہ ادویات کے استعمال پر پابندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چولستان میں بڑی تعداد میں گدھوں کی موجودگی اس بات کا اشارہ ہے کہ تحفظ کے اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں اور ان کی آبادی میں بہتری آ رہی ہے۔