کراچی میں بوٹ بیسن کے علاقے میں جمعہ کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بننے والی 13 سالہ بچی اور اس کی بہن کو ایدھی فاؤںڈیشن کے حوالے کر دیا۔
پولیس کے مطابق بوٹ بیسن کے علاقے شیریں جناح کالونی سے پولیس کو دو لاوارث بچیاں ملیں تھیں ، ملنے والی دونوں بچیوں کو گزشتہ روز میڈیکل لیٹر کے ساتھ ایدھی فاؤنڈیشن کے حوالے کر دیا تھا۔
13 سالہ بچی نے ابتدائی طور پر اپنی طبیعت خراب ہونے کا بتایا زیادتی کا ذکر نہیں کیا تھا، ایدھی سینٹر میں بچی کی طبیعت خراب ہونے پر سول اسپتال لایا گیا ہے ، بچی نے اب زیادتی ہونے کا بتایا ، جس پر بچی کا لیڈی ڈاکٹر کی مدد سے میڈیکل کرایا گیا۔
دونوں بچیوں نے بیان دیا کہ وہ صادق آباد سے اپنی آنٹی کے ساتھ کراچی آئیں تھیں ، انٹی انہیں چھوڑ کر چلی گئیں اور وہ کہاں رہتی ہیں انہیں کچھ معلوم نہیں ہے، لاوارث ہونے کی وجہ سے بچیوں کو ایدھی فاؤنڈیشن کے حوالے کردیا تھا۔
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے بوٹ بیسن تھانے کی حدود سے مبینہ لاوارث حالت میں ملنے والی دو بچیوں سے متعلق خبروں کا نوٹس لے لیتے ہوئے ایس ایس پی ساؤتھ مہزور علی سے واقعے کی جامع تفصیلات پر مشتمل رپورٹ طلب کرلی۔
ترجمان آئی جی سندھ کے مطابق آئی جی سندھ نے دونوں بچیوں کو ہرممکن قانونی مددو تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔
گزشتہ رات دونوں بچیاں لاوارث حالت میں شیری جناح کالونی بس اسٹاپ سے پولیس کوملی تھیں ، دونوں بچیوں کو پولیس اسٹیشن لایا گیا جہاں ان سے تفصیلات طلب کی گئی۔
ابتدائی معلومات کے مطابق دونوں بچیاں صادق آباد سے کراچی پہنچی تھیں ، پولیس اسٹیشن میں اچانک ایک بچی کی طبیعت خراب ہونے پراسے فوری طور ایدھی ایمبولنس کے ذریعے میڈیکل لیٹرکے ساتھ اسپتال روانہ کیا گیا۔
طبی معائنہ کے دوران آج صبح ایک بچی سے زیادتی کی تصدیق ہوئی ہے ، تصدیق کے بعد پولیس نے متاثرہ بچی سے زیادتی سے متعلق قانونی کاروائی شروع کردی ہے ، تاحال کسی وارث نے بچیوں کی گمشدگی سے متعلق رابطہ نہیں کیا۔