آبنائے ہرمز کو کھولنے کے اعلان کے 24 گھنٹوں بعد ہی دوبارہ بندش کا اعلان کیا گیا ہے جس سے صورت حال غیریقینی ہو گئی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر کھولنے کے دوران تیل اور گیس کے کم از کم 8 ٹینکرز ہفتے صبح اس اہم آبی گزر گاہ سے گزرے تھے۔
ٹریکنگ پلیٹ فارم میرین ٹریفک نے بھی بتایا کہ کچھ مزید خام تیل کے ٹینکرز بھی آبنائے ہرمز کے اندر ایران کے لارک جزیرے کے قریب موجود تھے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں سے خلیج سے باہر جانے والے جہازوں کو ایران کی نگرانی سے گزرنا پڑتا ہے خاص طور پر اس وقت جب جنگ کی وجہ سے ایران نے اس راستے پر کنٹرول سخت کر رکھا تھا۔
ایران کی طرف سے اس سمندری راستے کی بندش کے باعث خلیج میں سیکڑوں جہاز پھنس گئے تھے اور سامان کی ترسیل مہنگی ہوگئی تھی۔ جہازران اس علاقے میں حملوں یا بارودی سرنگوں کے خطرے کی وجہ سے سفر سے گریز کر رہے تھے۔
گزشتہ روز ہی ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے کھولا جا رہا ہے۔ جس پر صدر ٹرمپ نے شکریہ بھی ادا کرتے ہوئے کہا تھا کہ آج کا دن شاندار ہے۔
تاہم آج آبنائے ہرمز کی صورتحال ایک بار پھر غیر واضح اور پیچیدہ ہو گئی ہے جب ایران کی پاسداران انقلاب نے دوبارہ بندش کا اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز اپنی سابقہ حالت میں واپس آ گئی ہے اور اب اس کا مکمل کنٹرول ایرانی مسلح افواج کے پاس ہے۔
سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق ایرانی کمانڈ نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ وہ نام نہاد ناکہ بندی کی آڑ میں بحری قزاقی کر رہا ہے جب تک امریکا ایرانی بندرگاہوں سے آنے جانے والے جہازوں کی ناکہ بندی ختم نہیں کرتا آبنائے ہرمز ہمارے کنٹرول میں رہے گی۔