خلیجی جنگ میں مودی کی اسرائیل نواز پالیسی کے باعث بھارت کی خودمختاری پر سوال اُٹھ رہے ہیں۔
بین الاقوامی جریدہ ایشیا ٹائمز کے مطابق ایران کے معاملے پر بھارت کی غیر واضح خارجہ پالیسی سخت تنقید کی زد میں ہے۔
پاکستان نے ایران امریکا مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا جبکہ بھارت کی سفارت کاری بالکل خاموش رہی۔
مودی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے محض تیل اور سپلائی کے نظام کی بات کی۔ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کا متحدہ عرب امارات کا دورہ بھی مداخلت کے بجائے رابطے اور یقین دہانی تک محدود رہا۔
چین اور پاکستان کی قریبی شراکت داری نے خطے میں بھارت کی نام نہاد اہمیت کو شدید دھچکا پہنچایا۔ پاکستان سے بہترین تعلقات کے بعد امریکا کیلئے بھارت پر اعتماد کرنا مشکل ہو گیا ہے۔