راولپنڈی میں پسند کی شادی کرنے والا جوڑا مبینہ پولیس گردی کا شکار ہوا جس پر متاثرہ جوڑے نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے انصاف کا مطالبہ کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق 23 سالہ محمد عثمان نے 20 سالہ میمونہ سے گزشتہ سال 17 ستمبر کو کورٹ میرج کی تھی۔ نکاح کے بعد لڑکی کے والدین راضی ہوگئے تاہم لڑکے کے والد نے انکار کیا۔
اس کے بعد 29 مارچ 2026 کو دلہن کی رخصتی ہوئی، رخصتی کے 24 گھنٹے بعد تھانہ وارث خان پولیس نے چوری کے مقدمے میں دلہا کو گرفتار کیا۔
کورٹ میرج کے 6 ماہ بعد چوری کا مقدمہ درج ہوا تھا جو تھانہ وارث خان پولیس نے 16 مارچ 2026 کو چوری کا مقدمہ درج کیا تھا۔ مقدمہ دلہا کے والد محمد رمضان کی درخواست پر نامعلوم ملزمان کے خلاف درج ہوا تھا۔
مقدمے کے تفتیشی افسر سب انسپکٹر افتخار نے دلہن کی سلامی کو برآمدگی میں ڈال دیا، باپ کی جانب سے درج مقدمے میں ملزم کا 8 روزہ جسمانی ریمانڈ لیا گیا۔
دلہن نے الزام لگایا کہ جسمانی ریمانڈ کے دوران پرائیوٹ افراد دلہے پر تھانے میں تشدد کرتے رہے جبکہ دلہے نے الزام لگایا کہ ریمانڈ کے دوران تفتیشی افسر طلاق دینے کے لیے تشدد کرتا اور شدید دباو ڈالتا تھا۔
الزام لگایا گیا کہ دلہن کو تفتیشی افسر خواتین پولیس کے بغیر رات 2 بجے تک تھانے میں بٹھائے رکھتا، جوڑے پر پولیس نے طلاق کے لیے شدید دباؤ ڈالا، لڑکے کے باپ کے سامنے پولیس اہلکار مبینہ تشدد کرتے رہے۔
مقامی عدالت نے 18 اپریل کو دلہے کو ضمانت پر رہا کیا جبکہ دلہن پہلے ہی عبوری ضمانت پر رہا ہے۔
تفتیشی آفیسر نے نمائندے کے فون پر گفتگو میں موقف اختیار کیا کہ میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا، لڑکی سے برآمدگی ہوئی جس میں زیورات بھی ہیں، رات گئے دلہن کو میں تھانے نہیں بلاتا تھا، اس کا شوہر بلاتا تھا۔ تھانے میں آنے والے پرائیویٹ افراد لڑکی اور لڑکے کے خیر خواہ تھے۔
ایف آئی آر نامعلوم افراد کے خلاف درج ہے، باپ نے ترتیمہ بیان میں بیٹے اور بہو کو ملزم نامزد کیا۔