جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ملک آج سیاسی اور معاشی طور پر مفلوج ہو کر رہ گیا ہے، موجودہ حکمران عوامی مینڈیٹ کے بجائے مصنوعی بیساکھیوں اور دھاندلی زدہ دستاویزات کے ذریعے مسلط ہیں۔
ایوان اقبال لاہور میں معروف نعت گو شاعر سید سلمان گیلانی کی یاد میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمان نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے اس سے فارم 47 کی پیداوار قرار دے دیا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمران عوامی مینڈیٹ کے بجائے مصنوعی بیساکھیوں اور دھاندلی زدہ دستاویزات کے ذریعے اقتدار پر مسلط ہیں، جس کی وجہ سے ملک آج سیاسی اور معاشی طور پر مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فارم 47 کے ذریعے بننے والی یہ حکومت نہ تو عوام کی نمائندہ ہے اور نہ ہی اس کے پاس وہ اخلاقی جرات ہے کہ وہ عالمی سطح پر پاکستان کا مقدمہ لڑ سکے یا ملک کے اندرونی بحرانوں کا حل نکال سکے۔
سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ کل سے پاکستان میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہو رہا ہے، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی قیادت کی آمد متوقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان کو اس عالمی ثالثی کا اعزاز حاصل ہو رہا ہے لیکن ایک طرف مذاکرات اور دوسری طرف امریکی صدر کی دھمکیاں سمجھ سے بالاتر ہیں۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش اور اس کے نتیجے میں ملک میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فارم 47 کے حکمرانوں کی نااہلی اور غلط حکمت عملی کے باعث ہماری سرحدیں اور کاروباری راستے بند ہیں، جس کی وجہ سے چین جیسا قریبی دوست ملک بھی پاکستان میں سرمایہ کاری سے گریزاں ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے پالیسی سازوں کو خبردار کیا کہ جب تک ملک میں فارم 47 کی غیر فطری حکمرانی قائم رہے گی، تب تک نہ تو مہنگائی کم ہوگی اور نہ ہی حقیقی استحکام آئے گا۔
انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام وہ واحد قوت ہے جو فارم 47 کے اس تاریک دور کو ختم کر کے ملک کو ایک شفاف نظام دے سکتی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے بھارت کو مخاطب کر کے کہا کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں جمعیت علمائے اسلام کے کارکن پاک فوج کے شانہ بشانہ سب سے پہلے میدان جنگ میں ہوں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے سید سلمان گیلانی مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان جیسے درویش صفت لوگوں کے جانے سے ایک جہاں یتیم ہو جاتا ہے۔
‘جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام مل کر تمام مسائل حل کرسکتے ہیں’
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پالیسی سازوں سے سوال ہے کہ ہماری مشرقی مغربی سرحدیں بند ہیں، کاروباری راستے بند ہو گئے ہیں، چین پاکستان میں سرمایہ کاری سے گریز کر رہا ہے، بتایا جائے کہ پاکستان کا اقتصادی مستقبل کہاں ہے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے بند ہونے کے ساتھ ہی پاکستان میں تیل کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئی ہیں، جب ہم نے پورے ملک میں مظاہروں کا اعلان کیا تو حکمران میرے پاس آئے کہ مذاکرات کا دور ہو رہا ہے آپ مظاہرے نہ کریں، پورے ملک میں مظاہرے مؤخر ہوئے ہیں منسوخ نہیں ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم لوگ جذبات میں آکر فیصلے نہیں کرتے ہیں، جہاں دنیا میں دوبڑے نظام مشرق اور مغرب مدمقابل تھے اور پورا انسانی معاشرہ آمریت کا سامنا کر رہا ہے۔
پالیسی سازوں کو مخاطب کرکے انہوں نے کہا کہ آپ کے پاس دوسرا آپشن میں ہوں، اپنا نظام حکومت بہتر کرو تاکہ ملک ترقی کرسکے، آؤ مجلس شوریٰ کی طرف ہمیں ملک کو بہترین نظام حکومت دینا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام مل کر تمام مسائل حل کر سکتے ہیں۔
نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کا خطاب
نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا کہ شاعر سلمان گیلانی کے ساتھ طویل المدت تعلق تھا، ان کی وفات علم وتدبر اور دانش وروں کے لیے ایک بہت بڑا خلا ہے، انہوں نے ہمیشہ ختم نبوت کی بات کی اور شریعت کے نفاذ کے لیے اپنی کوشش جاری رکھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سلمان گیلانی نے اپنے اسلوب بیان کی وجہ سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔