لاہور:
پاکستان ریلویز کے پاس بوگیوں کی کمی بڑھ گئی، سیکڑوں مسافر اپنی جان خطرے میں ڈال کر بوگیوں کی چھتوں پر سفر کرنے پر مجبور ہوگئے، فیض احمد فیض گاڑی شاہدرہ سے روانہ ہوئی تو مسافر چھتوں پر چڑھ گئے ریلوے انتظامیہ اور ریلوے پولیس خاموش تماشائی بن گئے۔
ایکسپریس کے مطابق پاکستان ریلویز کے وزیر حنیف عباسی ریلوے کو اپ گریڈ کرنے کے لیے کوششوں میں مصروف ہیں مگر ریلوے انتظامیہ ان کوششوں میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔
ریلوے ذرائع کے مطابق ایک طرف آئے روز حادثات نے ریلوے انفراسٹرکچر کی خستہ حالی کو بے نقاب کردیا ہے دوسری طرف چھتوں پر چڑھ کر سفر کرنے والے مسافر ریل گاڑیوں کی بوگیوں کی کمی سامنے لے آئے۔
ایکسپریس نیوز کو ملنے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح فیض احمد فیض جو لاہور شاہدرہ ریلوے اسٹیشن سے شام سات ساڑے سات بجے نارووال کے لیے روانہ ہوئی تو سو کے قریب مسافر جن کو ریل گاڑی کے اندر جگہ نہ ملی وہ ریل گاڑی کی بوگیوں پر چڑھ گئے جو کسی بھی حادثے کا شکار ہو سکتے ہیں۔
سب سے حیران کن بات یہ سامنے آئی کہ ریلوے انتظامیہ اور ریلوے پولیس دونوں ہی خاموش تماشائی بن کر منظر دیکھتے رہے کسی نے بھی مسافروں کو چھت پر کھڑے ہونے سے نہیں رکا۔
پولیس اہلکاروں کا کہنا تھا جن مسافروں کو روکتے ہیں تو وہ لڑائی مار کٹائی کرتے ہیں ریلوے انتظامیہ بوگیاں بڑھاتی نہیں اور گالیاں ہم سنتے ہیں، ریلوے قانون کے تحت ریل گاڑی کی بوگیوں کی چھت پر سفر کرنا جرم ہے، ریلویز پولیس نے درجنوں مسافر وں کو پکڑا بھی ہے مگر پھر بھی مسافر جاں خطرہ میں ڈال کر سفر کرتے رہتے ہیں۔
ریلوے ذرائع کے مطابق ناروال سیکشن پر چلنے والی ریل گاڑیوں کی بوگیوں کی تعداد 8 سے کم کر کے 4 کر دی ہے یہی وجہ ہے کہ مسافر ٹرینوں کی چھتوں پر چڑھ کر سفر کرتے ہیں۔
ریلوے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بوگیوں کی کمی ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسافر چھتوں پر چڑھ کر سفر کریں، چھتوں پر چڑھ کر سفر کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے مقدمات بھی درج کیے ہیں اور قانون کے تحت کارروائی کا عمل جاری رہتا ہے۔