کراچی میں مصروف شاہراہ پر رکشے سے اتار کر ڈاکٹر کو بیوی کے سامنے قتل کردیا گیا

مقتول کی شناخت 37 سالہ سارنگ کے نام سے کی گئی جو گلستان جوہر میں قائم نجی اسپتال میں ڈاکٹر تھا


ویب ڈیسک April 21, 2026
فوٹو فائل

شہر قائد کی مصروف ترین سڑک شاہراہ فیصل مہران ہوٹل کے قریب کار سوار ملزمان نے بیوی کے سامنے شوہر کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق شاہراہ فیصل مہران ہوٹل کے قریب فائرنگ کے واقعے میں ایک شخص جاں بحق ہوا، جس کی لاش جناح اسپتال منتقل کی گئی۔

چھیپا حکام کے مطابق مقتول کی شناخت 37 سالہ سارنگ کے نام سے کی گئی جبکہ واقعہ کار سوار ملزمان کی رکشے پر فائرنگ سے پیش آنے کا بتایا جا رہا ہے۔

ایس ایچ او آرٹلری میدان ندیم حیدر نے بتایا کہ مقتول اپنی اہلیہ کے ہمراہ کینٹ اسٹیشن کی جانب سے رکشا میں سوار ہو کر جا رہا تھا کہ مہران ہوٹل کے قریب کار سوار ملزمان نے رکشا روک کر سارنگ کو اتار کر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں وہ سینے پر گولی لگنے سے جاں بحق ہوگیا۔

مقتول پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر اور اس کا آبائی تعلق بدین سے بتایا جا رہا ہے، مقتول پریس کلب کے قریب سیدکو سینٹر کا رہائشی تھا واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقتول کی اہلیہ کے رشتے دار جناح اسپتال پہنچ گئے جبکہ ابتدائی تفتیش میں واقعہ زاتی رنجش کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے۔

اس حوالے سے پولیس سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کرتے ہوئے مزید تحقیقات کر رہی ہے  مقتول سارنگ گلستان جوہر میں قائم نجی اسپتال کے میڈیکل کالج میں بطور رجسٹرار اپنی خدمات انجام دے رہے تھے۔

دوسری جانب نیو کراچی کے علاقے سیکٹر الیون آئی سلیم سینٹر کے قریب موٹر سائیکل سوار ملزمان کی فائرنگ سے ایک شخص زخمی ہوگیا جسے طبی امداد کے لیے نارتھ ناظم آباد میں قائم نجی اسپتال لے جایا گیا۔

نیو کراچی تھانے کے قائم قام ایس ایچ او غلام عباس نے بتایا کہ مضروب کی شناخت 42 سالہ فرزند کے نام سے کی گئی جسے دائیں جانب سامنے سے کندھے کے قریب گولی لگی تھی جو کہ گاڑی میں سوار بتایا جاتا ہے جبکہ پولیس کو جائے وقوعہ سے نائن ایم ایم پستول کا خول ، سکہ اور ایک ٹوٹا ہوا میگزین ملا ہے۔

انھوں ںے بتایا کہ مضروب کی نیو کراچی صنعتی ایریا میں گارمنٹس فیکٹری ہے ، واقعے کی اطلاع ملنے پر نارتھ کراچی ایسوسی ایشن (نکاٹی) کے عہدیدار اور تاجر و صنعتکار بھی نجی اسپتال پہنچ گئے اور واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے  تاجر پر فائرنگ کا واقعہ بھتہ خوری کا شاخسانہ بتایا اور حکومت فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔