وزارت توانائی کے مطابق 17 اپریل کے بعد ملک بھر میں بجلی کی فراہمی میں ہبتری آئی جبکہ ایل این جی کی دستیابی کے بعد چوری اور نقصانات کی بنیاد پر بجلی لوڈشیڈنگ جاری رہے گی۔
ترجمان پاور ڈویژن نے ملک میں بجلی صورتحال پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں 17اپریل سے بجلی کی فراہمی میں بہتری آئی ہے، ڈیموں سے صوبوں کی طلب پر پن بجلی کے اخراج میں اضافے سے رات کے پیک اوقات میں 5000میگاواٹ بجلی پیدا ہورہی ہے۔
وزارت توانائی کے مطابق ملک کے جنوب سے بھی 400میگاواٹ گرڈ میں زیادہ بجلی کی موجودگی سے استحکام سے سینٹر میں لانے میں مدد ملی ہے، جس کے باعث 17 ,18 اور 19 اپریل کو رات کے پیک اوقات میں کوئی لوڈمنیجمنٹ نہیں کی گئی۔
ترجمان کے مطابق 20اپریل کو ملک کے بیشتر بجلی تقسیم کارکمپنوں نے رات کے اوقات صرف ایک گھنٹے کے لوڈمنیجمنٹ کی، صرف گیپو اور سیپکو کی جانب سے رات کے پیک اوقات میں دو گھنٹے کی لوڈ منجمنٹ کی گئی۔
ترجمان وزارت توانائی کے مطابق ملک میں ایل این جی سے چلنے والے 5500 میگاواٹ کے پاور پلانٹس سے بجلی پیدا نہیں ہورہی، جیسے ہی ایل این جی دستیابی ممکن ہوگی ان تمام پلانٹس بجلی کی پیداوار شروع ہوجائے گی ۔
وزارت توانائی نے کہا کہ ملک میں بجلی تقسیم کارکمپنوں میں چوری اور دیگر نقصانات کی بنیاد پر لوڈ منیجمنٹ جاری رہے گی، چوری اور نقصانات کی بنیاد پر لوڈمنیجمنٹ پالیسی کا حصہ ہے جس کا پیک لوڈمنیجمنٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ترجمان وزارت توانائی نے کہا کہ ایل این جی کی دستیابی کے بعد بھی چوری اور نقصانات کی بنیاد پر لوڈ منیجمنٹ جاری رہے گی۔