پشاور:
عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم میں ہونے والے خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس پر کتنی لاگت آئے گی؟ سوشل میڈیا پر بحث چل پڑی۔
خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم میں ہوگا، ایک دن کے اجلاس پر کتنا خرچہ آئے گا؟ یہ وہ سوال ہے جو سوشل میڈیا پر کیا جارہا ہے۔
ایونٹ کو آرگنائزڈ کرنے والے کنٹریکٹر کے مطابق تیاریوں کے حوالے سے اسمبلی سیکرٹریٹ کے ساتھ معاہدہ ہوا ہے اس پر 15 لاکھ کے قریب خرچہ آیا جس میں کھانے پینے اور دیگر اخراجات شامل ہیں۔
واضح رہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کا خصوصی اجلاس عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم میں ہوگا جسے عوامی اسمبلی کا نام دیا گیا ہے، ارکان اسمبلی کے بیٹھنے کے لیے کرسیاں لگائی گئی ہیں، اجلاس کی ویڈیو ریکارڈنگ ہوگی، ساؤنڈ سسٹم لگایا گیا ہے، عام شہریوں کو اجلاس دیکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔
وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے مردان جلسے میں اسمبلی کا اجلاس کھلے میدان میں منعقد کرنے کا اعلان کیا جس کے بعد اسپیکر اسمبلی بابر سلیم سواتی نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اسمبلی رولز 30 کے سب سکیشن (آئی) کے تحت اجلاس عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم میں طلب کیا۔
اجلاس کے لیے اسٹیڈیم میں اسمبلی کی طرز پر تیاری کی گئی، اسپیکر کے دائیں طرف حکومت اور بائیں طرف اپوزیشن ارکان کے لیے کرسیاں لگائی گئی ہیں، ارکان اسمبلی کے لیے کرسیاں اسمبلی سے اسٹیڈیم منتقل کی گئیں۔
اجلاس کی کارروائی کے لیے ساؤنڈ سسٹم نصب کیا گیا، ہر رکن کے لیے الگ الگ مائیک لگایا گیا، سرکاری افسران اور میڈیا کے لیے الگ الگ نشستیں مختص کی گئیں، ارکان اسمبلی اور مہمانوں کی گاڑیوں کے لیے پارکنگ کا بندوبست کیا گیا ہے۔
اجلاس میں شرکت کے معاملے پر اپوزیشن تقسیم ہوگئی
دریں اثنا عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم میں خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے معاملے پر اپوزیشن تقسیم ہوگئی، جے یو آئی اور اے این پی نے اجلاس سے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے جبکہ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ اجلاس میں شرکت کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ نہ کرسکے۔
پیپلز پارٹی کے رکن احمد کنڈی اور اے این پی کے نثارباز اسپیکر کے ہمراہ اجلاس کے انتظامات کا جائزہ بھی لیتے رہے۔
اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ اجلاس اسمبلی سیکرٹریٹ میں ہوا لیکن رات گئے تک اجلاس میں مشترکہ طور پر اجلاس میں شرکت کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ نہ ہوسکا۔
اس حوالے سے ذرائع نے بتایا ہے کہ جے یو آئی کے ارکان اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اے این پی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے اسٹیڈیم میں صوبائی اسمبلی کے اجلاس کو ڈرامہ بازی قرار دیتے ہوئے شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب اے این پی کے نثار باز نے اسمبلی اجلاس کے لیے اسپیکر کے ساتھ اسٹیڈیم کا دورہ بھی کیا۔ نثار باز کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کیا ہے۔
پیپلزپارٹی اور نواز لیگ رات گئے تک اسمبلی اجلاس میں شرکت کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں فیصلہ نہ کرسکے۔
پیپلزپارٹی کے احمد کنڈی بھی آج کے اجلاس میں شرکت کرسکتے ہیں پی ٹی آئی پی بھی اجلاس میں شرکت کے حوالے سے فیصلہ نہ کرسکی۔