امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے ہونے والا دورۂ پاکستان مؤخر کردیا گیا۔
نیویارک پوسٹ نے اپنےذرائع سے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے نائب صدر جے ڈی وینس کو پاکستان جانے سے روک دیا کیوں کہ ایران نے تاحال مذاکرات نہ کرنے کا اپنا فیصلہ تبدیل نہیں کیا۔
نیویارک پوسٹ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر ایران نے مذاکرات کے لیے ہامی بھرلی اور اپنا وفد پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا تو امریکی وفد بھی اسلام آباد جائے گا۔
ادھر نائب صدر جے ڈی وینس اس وقت وائٹ ہاؤس میں اہم پالیسی اجلاسوں میں مصروف ہیں۔ جس کے بارے میں میڈیا کو بعد میں آگاہ کیا جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق امریکا نے ایران کو کچھ نئی تجاویز پیش کی تھیں لیکن ایران نے اس پر کوئی جواب نہیں دیا جس کے بعد دورۂ پاکستان عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ کیا گیا۔
قبل ازیں ایران نے امریکا پر جنگ بندی کی خلاف ورزی اور وعدے کے باوجود ناکہ بندی ختم نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے انکار کردیا تھا۔
اس کے باوجود صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ نائب صدر جے ڈی وینس اپنی ٹیم کے ہمراہ پاکستان کے لیے روانہ ہوچکے ہیں اور چند گھنٹوں میں پاکستان پہنچ جائیں گے۔
علاوہ ازیں صدر ٹرمپ آج بھی پُراعتماد تھے کہ ایرانی رہنما جنگ بندی مذاکرات کے لیے امریکی وفد سے ملیں گے اور اس کا اختتام ایک عظیم ڈیل پر ہوگا۔
ادھر پاکستان میں بھی جنگ بندی مذاکرات کی مکمل تیاری کرلی گئی تھیں اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے ایرانی ہم مںصب سے گفتگو میں مذاکرات میں شرکت پر زور دیا تھا۔
تاہم ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ امریکا نے جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی کی ہے بالخصوص جب اس نے ایرانی بحری جہاز کو قبضے میں لیا اور ناکہ بندی ختم نہیں کی۔
ایرانی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی دھمکیاں جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں اور وہ مذاکرات کے لیے مثبت اور سنجیدہ نہیں ہیں۔
یاد رہے کہ 20 روز قبل پاکستان کی ثالثی میں دارالحکومت اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی مذاکرات کا پہلا دور ہوا تھا۔