پاکستان میں اعلی تعلیم سے جڑے معاملات، مسائل یا مشکلات کو دیکھیں تو اس میں ہمیں ایک بڑا تضاد تعلیمی پالیسیوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔اول پالیسیوں میں جدیدیت کی بنیاد پر تبدیلیوں کے عمل کا نہ ہونا،دوئم مالی وسائل کی کمی یا بجٹ کو کم مختص کرنا،سوئم تعلیم ،تحقیق اور تعلیمی معیارات کی کمی ، چہارم سیاسی مداخلت ،پنجم تعلیمی معاملات پر حد سے زیادہ بڑھتا ہوا بیوروکریسی کا کنٹرول،ششم سماجی علوم کو اپنی ترجیحات میں نظرانداز کرنا،ہفتم جامعات کی سطح پر گورننس کے نظام کے مسائل،ہشتم جامعات کی داخلی سطح پر خود مختاری کو چیلنج کرنا،نہم جامعات کو آزادانہ بنیادوں پر فیصلوں کا اختیار نہ دینا،نگرانی ،شفافیت اور جوابدہی کا نظام کا غیر موثر ہونا،دہم وائس چانسلرز کی تقرری میں سیاسی مداخلت یا سرچ کمیٹیوں میں تعلیم کے ماہرین کے مقابلے میں بیوروکریسی کے کنٹرول کی موجودگی جیسے مسائل میں اعلی تعلیم میں بہت کچھ کرنے کی خواہش یا توقعات خود ایک بڑا چیلنج ہے۔
وفاقی اور صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن،وفاقی اور صوبائی وزراتوں کا ہونا، بیوروکریسی جیسے ادارے موجود ہیں ۔لیکن اس کے باوجود اعلیم تعلیم سے جڑے مسائل کم نہیں بلکہ تسلسل کے ساتھ جہاں بڑھ رہے ہیں وہیں ہمیں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی سطح پر اعلی تعلیم کی ترجیحات میں کمزوری کے کئی پہلو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ یہ نہیں کہ ہمارے پاس اعلی تعلیم سے جڑے ماہرین اور اعلی دماغ نہیں ہیں یا ان میں کام کرنے کا تجربہ اور صلاحیت کی کمی ہے یا ان کو عالمی سطح میں اعلی تعلیم میں ہونے والی تبدیلیوں سے آگاہی نہیں ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ان اعلی تعلیمی ماہرین اور اعلی دماغوں کی ریاست اور حکومت کے نظام میں رسائی اور قبولیت کی ہے۔کیونکہ ہم مجموعی طور پرپاکستان میں اعلی تعلیم کے تناظرمیں ایک ایسا سازگار ماحول قائم نہیں کرسکے جہاں لوگ آزادانہ بنیادوں پر یا کسی ڈر اور خوف کے اعلی تعلیم کے بارے میں کوئی بڑے فیصلے کرسکیں یا کوئی متبادل سوچ،فکر اور نظام کو سامنے لایا جاسکے یا اس کی قبولیت کو تسلیم کیا جاسکے۔سب سے بڑا مسئلہ تو یہ ہے کہ جب اعلی تعلیم کے بڑے بڑے ماہرین اور اعلی دماغ کو ہم ملکی سطح پر بیوروکریسی کے سامنے بے بس دیکھتے ہیں تو اس سے انداز ہوجاتا ہے کہ اعلی تعلیم آزادانہ بنیادوں پر کہاں کھڑی ہے۔
پچھلے دنوں ’’لاہور فورم فار گورننس‘‘ جس کے سربراہ ڈاکٹر نظام الدین ہیں، ان کی سربراہی میں ایک علمی اور فکری نشست کا اہتمام کیا گیا۔اس نشست کے مہمان خاص پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی شاہ سے تفصیلی گفتگو اور سوال جواب کی نشست تھی۔ اس کا مقصد اعلی تعلیم سے جڑے معاملات پر ان کا موقف سننا اور مستقبل کے امکانات کودیکھنا تھا۔ ہمارے ہاں اعلی تعلیم کے معاملات میں آج کل کئی فکری مغالطے بھی موجود ہیں۔ان کے بقول آج سب ہی جامعات کی سطح پر سوشل سائنسز کے مقابلے میں کمپیوٹر یا مصنوعی ذہانت سے جڑی تعلیم کی بات کررہا ہے اور ہم پر دباو ڈالا جارہا ہے کہ سوشل سائنسز کی تعلیم کو بند کریا جائے ۔ ڈاکٹر محمد علی شاہ کے بقول جامعات کا حقیقی حسن ہی سماجی علوم ، ادب،آرٹ،کلچر،شاعری، ادب ، فلسفہ،تاریخ،ڈرامہ ہوتا ہے۔
ان کا سوال یہ تھا کہ کیا دنیا کی اعلی بڑی جامعات میں ان موضوعات پر تعلیم بند ہے تو ایسا ممکن نہیں۔اصولی طور پر جامعات کا کردار نئی نسل میں مکالمہ، سیاسی، سماجی،علمی شعور کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور اس کی ان میں صلاحیت پیدا کرنا،تجزیہ اور جائزہ کی صلاحیت پیدا کرنا،تحقیق کی مختلف صلاحیتوں کو مضبوط بنانا،آزادانہ بحث و مباحثہ کا طلبہ و طالبات میں ماحول پیدا کرنا،ایک دوسرے میں رواداری اور اہم اہنگی کو پیدا کرنا ہوتا ہے۔اس لیے یہ جو تصور دیا جارہا ہے کہ ہمیں کسی بھی سطح پر سماجی علوم کی ضرورت نہیں غلط ہے بلکہ اس سوچ اور فکر میں توازن پیدا کرنا چاہیے۔انھوں نے چین کی مثال دی او رکہا کہ اس برس چین سے 25کے قریب طالب علموں نے ڈاکٹر محبوب حسین کے شعبہ تاریخ پنجاب یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی جو ظاہر کرتا ہے کے چین کی اپنی ترقی میں بھی سماجی علوم کی اہمیت ہے۔سماجی علوم کی ترقی اور تعلیم کو نظر انداز کرکے ہم سماج کو ایک مہذہب اور اعلی روایات پر مبنی سماج کی شکل نہیں دے سکیں گے۔
ڈاکٹر محمد علی شاہ کہتے ہیں کہ آج کل شدت سے یہ کہا جارہا ہے کہ جامعات بے روزگار پیدا کرنے کے ادارے بن گئے ہیںیا ان کی اہمیت کم ہوگئی ہے۔ان کے بقول روزگار کے مواقع پیدا کرنا ریاست اور حکومت کی ذمے داری ہوتا ہے ۔ جب تک ملک کے نظام کو موثر اور شفاف نہیں بنایا جاتا، نئے روزگار کیسے پیدا ہوں گے۔
یہ بات ٹھیک ہے کہ جامعات کو صلاحیت پر مبنی نوجوان پیدا کرنے ہیں۔ اس میں ہم سے کوتاہی ہوسکتی ہے مگر سارا بوجھ جامعات پر نہیں ڈالا جاسکتا۔کیونکہ یہ ہی نوجوان جب پاکستان سے اعلی تعلیم حاصل کرکے باہر کے ممالک میں روزگار کے لیے جاتے ہیں تو ان کو اچھا روزگار بھی ملتا ہے اور وہ اپنی صلاحیت کی بنیاد پر بہتر کارکردگی بھی دکھاتے ہیں۔ اس لیے حکومت کا کام نئی نسل کے معاشی معاملات کے حل میں جہاں چھوٹی اور بڑی صنعتوںکا فروغ ہوتا ہے وہیں ایسے معاشی حالات بھی پیدا کرنے ہوتے ہیں جو لوگوں کو معاشی میدان میں آگے بڑھنے کا راستہ فراہم کر سکے۔اسی طرح ان کے بقول آج کل مصنوعی ذہانت کو بنیاد بنا کر سب کچھ اسی کے تناظر میں بات ہورہی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت ایک ڈیجیٹل ٹول ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اور ہم دیکھیں گے جیسے جیسے اس کا استعمال بڑھے گا نئی نسل اسے سیکھ لیں گے۔اس پر بہت زیادہ توجہ یا علیحدہ سے ڈگریاں بنانے کی بجائے ہمیں اس علم کو مجموعی علم کے ساتھ جوڑ کر ہی آگے بڑھانا ہوگا۔ہمیں اپنی توجہ علمی ،فکری،نفسیاتی انٹیلی جنس پر دینی چاہیے تاکہ ہم ان سے بہت کچھ عملی طور پر سیکھ کر اپنے لیے نئے امکانات اور نئی دنیا پیدا کرسکیں۔
ڈاکٹر محمد علی شاہ کہتے ہیں کہ اچھی بات ہے کہ یہاں موجود ماہرین ہماری اعلی تعلیم کا مقابلہ باہر کی اعلی تعلیم اور معیارات سے کرنا چاہتے ہیں اور کیا بھی جانا چاہیے۔لیکن اس امر کو بھی مدنظر رکھا جائے کہ دنیا کے بڑے اور اعلی تعلیم سے جڑے اداروں اور ممالک کا اعلی تعلیم کا بجٹ کیا ہے اور وہ کیا سرمایہ کاری کرتے ہیں اور ہم کتنی سرمایہ کاری کررہے ہیں۔ان کے بقول ہم تو تعلیم کے بجٹ میں مسلسل کمی کا شکار ہیں ۔
ایسے میں جامعات اور بالخصوص پبلک سیکٹر جامعات کا چلنا ایک معجزہ ہے۔ ہمارا مقابلہ نجی یونیورسٹیوں سے کیا جاتا ہے لیکن جو فیس ہم طلبہ سے لے رہے ہیں اور جو نجی یونیورسٹی لے رہی ہیں اس میں بہت بڑا فرق ہے ۔اس لیے جب اعلی تعلیم کا تجزیہ کریں تو ان حقایق کو بھی سامنے رکھ کر گفتگو کو آگے بڑھایا جائے تاکہ ہم عملا مستقبل کی طرف بہتر منصوبہ بندی کرسکیں۔ہمیں اعلی تعلیم کے معاملات میں جو غیر معمولی حالات ہیں اس میں غیر معمولی سطح کے اقدامات کی بنیادپر ہی آگے بڑھنا ہوگا۔