برطانیہ میں پیٹرول چوری بڑھ گئی، پمپ مالکان کو ہفتہ وار ہزاروں پاؤنڈ نقصان

ماہرین کے مطابق اگر ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اسی طرح جاری رہا تو ایسے جرائم میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے


ویب ڈیسک April 22, 2026

برطانیہ میں مشرق وسطیٰ کی جنگ کے بعد پیٹرول چوری کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق پیٹرول چوروں سے رقم وصول کرنے والی کمپنی پے مائے فیول کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ ملک بھر میں پیٹرول چوری کے واقعات میں تقریباً 62 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

یہ اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث نہ صرف عوام پر مالی دباؤ بڑھ رہا ہے بلکہ پیٹرول پمپس پر کام کرنے والے عملے کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران پر حملے کے بعد ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں ایک عام خاندان کو اپنی گاڑی میں پیٹرول بھرانے کے لیے تقریباً 14 پاؤنڈ اضافی ادا کرنا پڑ رہے ہیں، جبکہ ڈیزل گاڑیوں کے مالکان کے اخراجات میں 27 پاؤنڈ سے زائد اضافہ ہو گیا ہے۔

برطانوی حکومت نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیٹرول چوری کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

جنوبی انگلینڈ میں متعدد پیٹرول پمپس کے مالک مسٹر جوش کے مطابق پہلے ہفتے میں ایک یا دو بار ایسے واقعات ہوتے تھے، لیکن اب یہ تعداد بڑھ کر تقریباً پانچ مرتبہ ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ لوگوں میں یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ بغیر ادائیگی پیٹرول لے جانا معمول بنتا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس قسم کی چوری کے باعث انہیں ہر ہفتے تقریباً دو ہزار پاؤنڈ تک کا مالی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اسی طرح جاری رہا تو ایسے جرائم میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے نہ صرف کاروبار متاثر ہوگا بلکہ معاشرتی مسائل بھی بڑھ سکتے ہیں۔