لاہور ہائیکورٹ میں چار سال قبل اغوا ہونے والی لڑکی مقدس بی بی کی عدم بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں ہوئی، جس میں آئی جی پنجاب راؤ عبد الکریم اور دیگر اعلیٰ افسران عدالت میں پیش ہوئے۔
درخواست گزار سلمیٰ بی بی نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی بیٹی کو چار سال قبل اغوا کیا گیا مگر پولیس مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام رہی۔
عدالت نے آئی جی پنجاب کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ بڑی تعداد میں مغوی بچیاں تاحال بازیاب نہیں ہو سکیں اور یہ پولیس کی ذمہ داری ہے کہ انہیں بازیاب کرایا جائے۔
آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ پانچ سالوں (2021 تا 2025) کے دوران خواتین کے ایک لاکھ سے زائد مقدمات درج ہوئے، جن میں ہزاروں اغوا کے کیسز شامل ہیں، تاہم اب بھی بڑی تعداد میں لڑکیاں لاپتہ ہیں۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اتنی بڑی تعداد میں بچیوں کی بازیابی کیوں ممکن نہیں ہو سکی اور ناقص کارکردگی پر تفتیشی افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دیا۔
چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ ایک مؤثر میکنزم بنایا جائے، ذمہ دار افسران کا تعین کیا جائے اور آئندہ سماعت پر مکمل رپورٹ پیش کی جائے۔
عدالت نے مزید حکم دیا کہ لاپتہ افراد کے تمام زیر التواء کیسز کی تفصیلات فراہم کی جائیں اور خاص طور پر بچیوں کے کیسز پر فوری توجہ دی جائے۔ کیس کی سماعت یکم جون تک ملتوی کر دی گئی جبکہ آئندہ سماعت پر اسپیشل ٹیم کو بھی پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔