آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی سمیت ملائشیا سے بھتہ گینگ آپریٹ کرنے والے 3سرغنوں کے خلاف ریڈ وارنٹ جاری ہوچکے ہیں جنہیں ایران کی صورتحال بہتر ہوتے ہی گرفتار کرلیا جائے گا جبکہ کراچی میں اسٹریٹ کرائم پر مجموعی طور پر قابو پا لیا گیا ہے۔
سائیٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری میں صنعت کاروں سے خطاب اور صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ کراچی میں بھتے کی وارداتیں محدود ہیں البتہ نارتھ کراچی میں بھتے کی شکایات موصول ہو رہی ہیں جہاں صمد کاٹھیاواڑی گینگ ملوث ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھتہ خوروں کے 80 فیصد آلہ کار مارے جاچکے ہیں، تحقیقات کے بعد اس امر کی نشان دہی ہوئی ہے کہ بھتے کی ایف آئی آر محض 30 فیصد حقیقی معنوں میں بھتے سے متعلق درست تھیں جبکہ باقی ماندہ 70فیصد ایف آئی آر کاروباری تنازعات کی وجہ سے درج کرائی گئیں۔
آئی جی سندھ نے کہا کہ اسٹریٹ جرائم کراچی کا مسئلہ رہا ہے لیکن مجموعی طور پر قابو پالیا گیا ہے، سائٹ کے چند علاقوں میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں ہوئی ہیں تاہم ان پر قابو پایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ جس دور میں سائٹ صنعتی علاقہ بنا تھا یہ شہر کے گرد و نواح میں تھا، کراچی جس تیزی سے پھیلا ہے، شاید ہماری مطلوبہ پلاننگ نہیں تھی، ہمارے پاس ایکسپریس وے نہیں ہے جس کے سبب ٹریفک کے مسائل درپیش ہیں، ایکسپریس وے بھی ہماری پلاننگ میں شامل ہی نہیں تھی، ٹریفک کو بہتر کرنے کے لیے شہر میں تین گنا زائد ایڈوانس کیمرے نصب کررہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ چند ماہ میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی مد میں 50 کروڑ روپے کے جرمانے وصول کیے گئے، کراچی میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی حد سے زیادہ ہے تاہم کیمرے زیادہ ہونے سے ٹریفک اور دیگر مسائل میں کمی آئے گی، شہر میں ٹریفک بڑھا ہے لیکن اس کے باوجود حادثات میں کمی ہوئی ہے۔
آئی جی سندھ نے کہا کہ ناردن بائی پاس کے قریب حکومت نے ٹرانسپورٹرز کو زمین فراہم کی ہے لیکن ٹرانسپورٹرز کا مؤقف ہے کہ نادرن بائی پاس بہت دور ہے۔
انہوں نے کہا کہ صنعتی علاقے میں ہارڈ انکروچمنٹ کے حوالے سے کمشنر کراچی سے رجوع کیا جائے جبکہ سافٹ انکروچمنٹ ختم کرنے کے لیے انہوں نے ڈی آئی جی ساؤتھ کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ پرانے چھپرا ہوٹلوں کو رجسٹرڈ کیا جائے اور نئے ہوٹلوں کو بند کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی وجہ سے کرائم ریٹ میں نمایاں کمی آئی ہے، کراچی میں پہلے 30 ہزار کیمرے تھے، اب 40 ہزار سے زائد کیمرے نصب ہوچکے ہیں، جو سیف سٹی کے علاوہ ہیں۔
آئی جی سندھ نے کہا کہ سندھ پولیس کا کرائم ڈیٹیکشن ریٹ 70فیصد ہوچکا ہے، موٹر سائیکل سواروں کی وارداتیں ایک دور میں 45 ہزار تک تھیں جو اب گھٹ کر 30 ہزار سے بھی کم ہوچکی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس میں علیحدہ سے ڈرون کا پورا یونٹ بنا رہے ہیں، ڈرون کی وجہ سے کچے کے علاقے کا "نو گو ایریا" کا اسٹیٹس ختم کر دیا ہے، کچے کے علاقے میں 500 سے زائد ڈاکوؤں کو فارغ کیا گیا، 80 سے زائد ڈکیتوں نے ہتھیار ڈال دیے، عیدین کے دوران ہائی وے پر اب وارداتیں ختم ہوچکی ہیں، کیمرے کے ساتھ روبو کارز کی وجہ سے صدر کے علاقے میں ٹریفک کو بہتر کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر ایس ایس پی کے پاس عنقریب پولیس کی نئی نفری آرہی ہے، مسئلہ نفری کا نہیں، ٹیکنالوجی کا ہے، دنیا میں کہیں پولیس ناکے لگا کے نہیں کھڑی ہوتی، بلکہ ٹیکنالوجی کی مدد لی جاتی ہے، کیمروں کی وجہ سے مک مکا اور انسانی روابط کے خاتمے سے شکایات کم ہوگئی ہیں۔
جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ پولیس لاٹھی بردار سیکیورٹی ایجنسی نہیں ہے بلکہ ایک اسپیشلائزڈ فورس ہے جس میں پڑھے لکھے نوجوان درکار ہیں، اس وقت پولیس میں 85 فیصد کانسٹیبلری ہے، جس سے بتدریج 50فیصد سے بھی کم کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت سے درخواست کی ہے کہ کانسٹیبل کی جگہ اے ایس آئی زیادہ بھرتی کرے، مستقبل میں پولیس موبائل محض رسپانس کے لیے ہوں گی، جدید گاڑیوں سے رسپانس کا دورانیہ 7 منٹ تک ہونا ضروری ہے، پولیس اہلکار کو ٹیبلٹ فراہم کیا جائے گا، قانون کی خلاف ورزی پر وہ شہری کی تصویر سیف سٹی کو بھیجے گا۔
آئی جی نے کہا کہ ہوائی فائرنگ سے سولر پینل ہی نہیں بلکہ قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں، کراچی میں دیہی علاقوں سے آئے لوگ شادیوں میں فائرنگ کرتے ہیں، ہوائی فائرنگ کرنے پر دولہا، ان کے والد اور دیگر کو گرفتار کیا جا رہا ہے، سولر پینل کی وجہ سے بجلی کی گھریلو کھپت میں پاکستان 30فیصد تک خود مختار ہوچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ون وے کی خلاف ورزی سے کراچی میں متعدد حادثات ہوتے ہیں۔