ایک امریکی عہدیدار کی مبینہ خفیہ گفتگو کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد امریکا میں ہلچل مچ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی اہلکار اینڈریو ہگ کی ایک عوامی مقام پر حساس معاملات پر گفتگو کی مبینہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔
یہ ویڈیو آزاد تحقیقاتی صحافت سے وابستہ امریکی صحافی جیمز اوکیف نے آن لائن جاری کی، جس میں مبینہ طور پر اینڈریو ہگ کو امریکا کی مستقبل کی حکمت عملی، جوہری نظام اور کیمیائی ہتھیاروں جیسے حساس موضوعات پر بات کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق خفیہ طور پر ریکارڈ کی گئی اس ویڈیو میں امریکی عہدیدار نے ایران کے نئے سپریم لیڈر کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔
ویڈیو میں انہوں نے مبینہ طور پر کہا کہ اگر مجتبیٰ خامنہ ای پالیسی تبدیل نہ کریں تو انہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں مبینہ طور پر اینڈریو ہگ نے کہا کہ امریکا کا ایران میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، تاہم انہوں نے امریکی حملوں میں بچوں کی ہلاکت کا بھی ذکر کیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ویڈیو سامنے آنے کے بعد اینڈریو ہگ کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ امریکی فوج کی ترجمان نے کہا ہے کہ مکمل تحقیقات تک انہیں انتظامی رخصت پر بھیج دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اینڈریو ہگ امریکی فوج میں کیمیائی اور جوہری سلامتی سے متعلق ایک اہم شعبے کے سربراہ تھے، تاہم امریکی حکومت نے تاحال ان کے عہدے کی سرکاری تصدیق نہیں کی۔
ماہرین کے مطابق اگر ویڈیو مستند ثابت ہوتی ہے تو یہ معاملہ امریکی قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا سوال بن سکتا ہے۔