امریکی صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے بعد بھارت کی عالمی سطح پر ساکھ اور سفارتی حیثیت ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک بیان میں بھارت کو “جہنم کا گڑھا” قرار دیا، جس پر بھارت میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے اس بیان کو نہ صرف توہین آمیز بلکہ بھارت مخالف قرار دیا ہے۔ کانگریس رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مودی کی پالیسیوں اور کمزور سفارتکاری کی وجہ سے بھارت عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔
کانگریس کے مطابق مودی حکومت کی ہندوتوا نظریے پر مبنی پالیسیوں نے ملک کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے، جبکہ ٹرمپ کی جانب سے بار بار آنے والے بیانات کے باوجود بھارتی حکومت کی خاموشی تشویش کا باعث ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کسی ملک کو اس طرح کے الفاظ میں بیان کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی سطح پر اس ملک کے حالات اور انسانی حقوق کی صورتحال پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق امریکا اور بھارت کے تعلقات میں بھی حالیہ عرصے میں کشیدگی اور دوری کے آثار نمایاں ہوئے ہیں، جو مستقبل میں دونوں ممالک کے تعلقات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
ادھر ناقدین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کی پالیسیوں اور عالمی سطح پر بیانات کے ردعمل میں کمزوری بھارت کے لیے سفارتی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے، جس کے اثرات ملک کی عالمی پوزیشن پر واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔