پاکستانی کمپنی نے حیران کن خصوصیات کے حامل ملٹری خیمے ایکسپورٹ کے لیے پیش کردیے 

پاکستانی کمپنی نے ہائی فریکوینسی ویلڈڈ فیبرک سے تیار ملٹری خیمے متعارف کرائے


کاشف حسین April 24, 2026

عالمی امن کے لیے پاکستان کے کردار سے پاکستان کی ایکسپورٹ میں اضافے کے امکانات بھی روشن ہوگئے ہیں۔ خریدار اب پاکستان کو ایک نئے زاویے سے دیکھ رہے ہیں۔

پاکستانی کمپنی نے انفرا ریڈ ریڈیشن کو بلاک کرنیوالے میٹریل کو ہائی فریکوینسی ویلڈنگ ٹیکنالوجی سے تیار کردہ ریڈار پر ظاہر نہ ہونے والے ملٹری خیمے متعارف کرادیے۔

اگلے مورچوں پر کمانڈ سینٹر، ملڑی آپریشن کنٹرول روم، حساس کمیونی کیشن آلات او بڑے ہتھیاروں کو دشمن کی نظروں سے اوجھل کرنے والے خیمے ڈرونز کو بھی نابینا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

عالمی نمائش میں مختلف ممالک کی جانب سے ان خیموں میں خصوصی دلچسپی کا اظہار کیا گیا۔

جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں 21 سے 24 اپریل کو ہونے والی تکنیکی ٹیکسٹائل نمائش میں شریک پاکستانی کمپنی نے  ہائی فریکوینسی ویلڈڈ فیبرک سے تیار خصوصی ملٹری خیمے متعارف کرائے جو پاکستان میں پہلی مرتبہ تیار کیے گئے ہیں اور روایتی ٹیکسٹائل مصنوعات کے ساتھ اسپیشل پرپرز تکنیکی ٹیکسٹائل میں پاکستان کی مہارت کا ثبوت ہیں۔ 

تکنیکی ٹیکسٹائل کے عالمی میلے میں پاکستان کی تیار کردہ مصنوعات نے عالمی خریداروں کی توجہ حاصل کرلی، کراچی کی ایکسپورٹ فرم کے تیار کردہ ملٹری خیموں نے کاٹن کے بعد ہائی پرفارمنس فیبرک میں بھی پاکستانی مہارت کا لوہا منوالیا۔

ایچ نظام دین اینڈ سنز کے ہیڈ آف بزنس (انجینئرڈ ٹیکنیکل فیبرکس) کاشف احمد نے بتایا کہ خصوصی پی وی سی میٹریل سے تیار کردہ یہ خیمے انفرا ریڈ ریڈیشن کو بلاک کرتے ہیں جس کی وجہ سے یہ ریڈار پر نظر نہیں آتے اور نہ ہی ڈرونز کے زریعے ان خیموں کو اسکین کرکے ان کے اندر موجود افراد یا آلات کے بارے میں جانا جاسکتا ہے۔

یہ خیمے آتشزدگی سے بھی تحفظ کی صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ پی وی سی سے تیار ہونے کے باوجود آگ نہیں پکڑتے۔

کاشف احمد نے بتایا کہ ان خیموں کے جوڑ سلائی سے نہیں جوڑے جاتے  بلکہ ہائی فریکوینسی ویلڈنگ سے جوڑے جاتے ہیں جو بہت مضبوط ہوتے ہیں۔ ان خیموں کی خاص بات یہ ہے کہ انہیں ایک بیرونی فریم کے ذریعے بہت کم وقت میں نصب کیا جاسکتا ہے۔