ہزاروں ٹن آلو مفت کیوں بانٹنے پڑے؟ دلچسپ وجہ سامنے آگئی

مختلف علاقوں میں ’پوٹیٹو پک اپ اسٹیشنز‘ قائم کرکے شہریوں کو مفت آلو حاصل کرنے کی دعوت دی گئی


ویب ڈیسک April 24, 2026

یورپ کے ترقی یافتہ ملک جرمنی میں ایک منفرد اور قابلِ توجہ واقعہ سامنے آیا جہاں اضافی پیداوار کے باعث ہزاروں ٹن آلو ضائع ہونے کے خطرے سے دوچار ہوگئے، مگر بروقت حکمتِ عملی نے اس مسئلے کو ایک مثبت مثال میں بدل دیا۔

خوراک کے ضیاع کو روکنے کے لیے بڑی مقدار میں آلو عوام میں مفت تقسیم کر دیے گئے، جسے نہ صرف سراہا گیا بلکہ ایک کامیاب تجربہ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایک تاجر نے زرعی کمپنی سے تقریباً چار ہزار ٹن آلو خریدنے کا آرڈر دیا تھا، جو وزن کے لحاظ سے لگ بھگ 800 ہاتھیوں کے برابر بنتے ہیں۔ تاہم اسی دوران ملک میں آلو کی غیر معمولی پیداوار ہوئی، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں سپلائی بہت بڑھ گئی اور قیمتیں نمایاں حد تک گر گئیں۔

اس صورتحال میں تاجر نے اپنا آرڈر لینے سے انکار کر دیا، جس کے باعث اتنی بڑی مقدار میں آلو ضائع ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا۔

عام طور پر اس طرح کی اضافی خوراک کو تلف کر دیا جاتا ہے، جو بعد ازاں سڑ کر میتھین گیس خارج کرتی ہے اور ماحول کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ جرمنی کے قوانین کے مطابق ایک بار کچرے میں ڈال دی گئی خوراک کو دوبارہ استعمال کرنا غیر قانونی ہے، چاہے وہ قابلِ استعمال ہی کیوں نہ ہو۔

ایسی صورتحال میں ایک مقامی غیر سرکاری تنظیم اور ایک اخبار نے مشترکہ طور پر اس مسئلے کا عملی حل تلاش کیا۔ برلن کے مختلف علاقوں میں ’پوٹیٹو پک اپ اسٹیشنز‘ قائم کیے گئے، جہاں شہریوں کو مفت آلو حاصل کرنے کی دعوت دی گئی۔ جیسے ہی یہ آلو وہاں پہنچائے گئے، لوگوں کی بڑی تعداد اسٹیشنز کا رخ کرنے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے تمام آلو تقسیم ہو گئے۔

اگرچہ کچھ افراد اس موقع سے فائدہ نہ اٹھا سکے، تاہم مجموعی طور پر عوام نے اس اقدام کو خوب سراہا۔ اس تجربے نے یہ ثابت کیا کہ بہتر منصوبہ بندی اور مثبت سوچ کے ذریعے نہ صرف خوراک کے ضیاع کو روکا جا سکتا ہے بلکہ معاشرے کو فائدہ بھی پہنچایا جا سکتا ہے۔